سیالکوٹ بھگدڑ: مسٹر پٹلو سمیت 9 نامزد، مقدمہ درج
سیالکوٹ میں ٹک ٹاکر مسٹر پٹلو کی مہندی کی تقریب میں بھگدڑ کے بعد مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مقدمے میں مسٹر پٹلو سمیت 9 افراد کو نامزد کیا گیا ہے جبکہ 40 سے 45 نامعلوم افراد بھی ملزمان میں شامل ہیں۔ سرکاری طور پر اس حادثے میں ایک شخص جاں بحق اور 13 سے زائد افراد زخمی ہوئے تھے۔
یہ واقعہ ہفتے کی رات سیالکوٹ میں ڈسکہ روڈ پر واقع فراز کرکٹ گراؤنڈ میں پیش آیا تھا، جہاں مشہور ٹک ٹاکر محمد انصر جٹ المعروف مسٹر پٹلو کی مہندی اور انعامی تقریب منعقد ہو رہی تھی۔ تقریب میں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کی قرعہ اندازی کا اعلان کیا گیا تھا، جس کے باعث مختلف شہروں سے بڑی تعداد میں مداح گراؤنڈ کے باہر جمع ہو گئے تھے۔
گیٹ کھلتے ہی بھگدڑ کیسے مچی
پولیس اور ریسکیو 1122 کے مطابق منتظمین نے مقررہ وقت سے پہلے اسٹیڈیم کے گیٹ کھول دیے، جس پر باہر کھڑا ہجوم اندر داخل ہونے کے لیے دھکم پیل کرنے لگا۔ دھکم پیل کے دوران متعدد افراد زمین پر گر گئے اور روندے گئے۔ ریسکیو ٹیموں نے چار ایمبولینسوں اور ایک موٹر سائیکل ایمبولینس کے ساتھ موقع پر پہنچ کر امدادی کارروائی کی اور زخمیوں کو علامہ اقبال میموریل ٹیچنگ اسپتال منتقل کیا۔
جاں بحق ہونے والے نوجوان کی شناخت 30 سالہ محمد عقیل کے نام سے ہوئی ہے، جو گاؤں بدھا گورایہ کا رہائشی تھا اور اسپتال منتقلی کے دوران دم توڑ گیا۔ ریسکیو حکام کے مطابق زخمیوں کی عمریں 22 سے 51 سال کے درمیان ہیں اور ان کا تعلق نارووال، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، خانیوال، اوکاڑہ، سیالکوٹ، گجرات اور بہاولپور سمیت مختلف اضلاع سے ہے۔
زخمیوں کی تعداد پر متضاد دعوے
سرکاری اعداد کے مطابق ابتدائی طور پر 14 افراد متاثر ہوئے تھے، جن میں ایک جاں بحق اور 13 زخمی شامل ہیں۔ تاہم مقامی افراد کا دعویٰ ہے کہ زخمیوں کی تعداد 40 سے زائد تھی، کیونکہ کئی زخمیوں کو ریسکیو ٹیموں کی آمد سے پہلے ہی قریبی نجی اسپتالوں اور کلینکوں میں پہنچا دیا گیا تھا۔ سوشل میڈیا پر اس سے بھی زیادہ ہلاکتوں کے دعوے گردش کر رہے ہیں، لیکن پولیس اور ریسکیو حکام کی جانب سے ایک ہلاکت کی ہی تصدیق ہوئی ہے۔
پاکستان آبزرور کی رپورٹ کے مطابق زیادہ تر زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد اسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر نوید اقبال نے بتایا کہ ریسکیو 1122 کو اس بڑے اجتماع کے بارے میں پہلے سے آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔
انتظامیہ کا مؤقف اور قانونی کارروائی
واقعے کے بعد ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سیالکوٹ ریٹائرڈ کیپٹن دوست محمد بھاری پولیس نفری اور ایلیٹ فورس کے ہمراہ موقع پر پہنچے۔ انہوں نے ڈان سے گفتگو میں کہا کہ منتظمین نے مقررہ وقت سے پہلے گیٹ کھول کر خلاف ورزی کی، اور واقعے کے تمام پہلوؤں کی جانچ کے بعد قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ اویس مشتاق نے اس سے قبل ہی تقریب کی اجازت واپس لے لی تھی، کیونکہ تقریب انتظامیہ کے مقرر کردہ وقت سے پہلے شروع کر دی گئی تھی۔ اجازت 31 اکتوبر سے 7 نومبر تک دی گئی تھی۔ تازہ رپورٹ کے مطابق اب اسی واقعے میں مقدمہ درج کر کے 9 نامزد اور 40 سے 45 نامعلوم ملزمان کے خلاف کارروائی شروع کر دی گئی ہے، تاہم مقدمے کی دفعات اور گرفتاریوں کے بارے میں تاحال سرکاری تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔
یہ واقعہ سوشل میڈیا شخصیات کی تقریبات میں ہجوم کے انتظام اور حفاظتی انتظامات پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ ایسے بڑے اجتماعات کے لیے پیشگی اطلاع اور حفاظتی انتظامات لازمی ہوں گے۔
سیالکوٹ بھگدڑ کی پہلی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3007 — پنجاب میں جرائم کی دیگر خبریں یہاں دیکھیں: https://niazitvnews.com/?p=2933
ذرائع: ڈان، پاکستان آبزرور، دی پاکستان کنیکٹ، سما ٹی وی