شہباز شریف کی مکہ ڈیفنس الائنس کے سربراہ سے ملاقات — سعودی عرب کی سلامتی کے تحفظ کے عزم کا اعادہ

0
پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے جھنڈے — مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کی علامتی تصویر

وزیر اعظم شہباز شریف نے آج بدھ کو اسلام آباد میں مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے کے نومنتخب سیکرٹری جنرل لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود سے ملاقات میں سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی کے تحفظ کے لیے پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔ وزیر اعظم آفس کے جاری کردہ بیان کے مطابق ملاقات وزیر اعظم آفس میں ہوئی جس میں علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

معاہدے کو “تاریخی سنگِ میل” قرار دیا

گفتگو کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ مکہ امن معاہدہ “خطے میں امن، اتحاد اور استحکام کا تاریخی سنگِ میل” ہے۔ ان کے مطابق پاکستان معاہدے کے تحت سعودی عرب کی خودمختاری، دفاع اور علاقائی سلامتی کے تحفظ میں اس کے شانہ بشانہ کھڑا ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود نے وزیر اعظم کو معاہدے کے فریم ورک کے تحت دفاعی اور اسٹریٹجک تعاون فروغ دینے کی حکمت عملی پر بریفنگ دی۔

حوثی حملوں کے درمیان اہم ملاقات

یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یمن کے حوثی گروپ کے سعودی عرب کے شہری اور تیل کی تنصیبات پر حملے جاری ہیں — رپورٹس کے مطابق ان حملوں میں درجن سے زائد افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہو چکے ہیں۔ ریاض اور ابہا کے ہوائی اڈوں اور آرامکو تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے، جس سے امریکہ اور ایران تنازع کے وسیع تر علاقائی اثرات کی تشویش بڑھ گئی ہے۔

مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدہ کیا ہے

پاکستان، سعودی عرب اور ترکی نے اگست میں مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے پر دستخط کیے تھے، جو تینوں ممالک کے درمیان ایک دفاعی فریم ورک ہے — معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر مسلح حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا۔ 23 ستمبر کو لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود کو اتحاد کا پہلا سیکرٹری جنرل مقرر کیا گیا تھا، اور جنرل سیکریٹریٹ ریاض میں قائم ہوگا۔

صدر زرداری سے بھی ملاقات

ایک روز قبل لیفٹیننٹ جنرل (ر) محمود نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کی تھی۔ صدر نے اعتماد ظاہر کیا کہ معاہدہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی روشنی میں دفاعی تعاون کے ذریعے علاقائی امن و استحکام مضبوط کرے گا۔

ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون (وزیر اعظم آفس کے بیان کے حوالے سے)، دی پرنٹ/پی ٹی آئی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *