طوفان ارناب: 5.7 لاکھ افراد خطرے میں، انخلا شروع

0

خلیج بنگال میں بننے والا طوفان ارناب 28 اکتوبر کی صبح آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرانے والا ہے، اور اس سے قبل حکام نے بڑے پیمانے پر تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق آندھرا پردیش میں تقریباً 5.7 لاکھ افراد کو طوفان سے خطرے میں قرار دیا گیا ہے اور ان کے انخلا کا عمل پیر کی شام سے شروع ہونے کی توقع ہے۔ بھارتی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) نے آندھرا پردیش اور ملحقہ جنوبی اوڈیشہ کے ساحلوں کے لیے ریڈ میسج وارننگ جاری کر رکھی ہے۔

طوفان کہاں ہے اور کب ٹکرائے گا

آئی ایم ڈی کے پیر کی صبح 5:30 بجے کے بلیٹن کے مطابق طوفان ارناب مشرقی وسطی اور ملحقہ مغربی وسطی خلیج بنگال میں موجود تھا، جو وشاکھاپٹنم سے تقریباً 650 کلومیٹر مشرق جنوب مشرق، کاکی ناڈا سے 730 کلومیٹر اور بپٹلہ سے 910 کلومیٹر دور تھا۔ طوفان 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مغرب کی جانب بڑھ رہا تھا۔

محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان پیر کی آدھی رات تک شدید طوفان اور منگل 27 اکتوبر تک انتہائی شدید طوفان کی شکل اختیار کر لے گا۔ اس کے بعد یہ شمال مغرب کی جانب بڑھتے ہوئے 28 اکتوبر کی صبح بپٹلہ اور وشاکھاپٹنم کے درمیان، یانم کے قریب، آندھرا پردیش اور یانم کے ساحلوں سے ٹکرائے گا۔ اس وقت ہواؤں کی رفتار 115 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ ہوگی اور جھکڑ 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ طوفان کی پیش گوئی کی تفصیل اس خبر میں پہلے شائع ہوئی تھی۔

چار ریاستوں میں الرٹ، اوڈیشہ میں پابندیاں

بھارتی مرکزی حکومت نے پیر کو چار ریاستوں اور پڈوچیری میں الرٹ جاری کر دیا ہے۔ آندھرا پردیش، اوڈیشہ، تلنگانہ، چھتیس گڑھ اور پڈوچیری میں تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔ اوڈیشہ حکومت نے 6 اضلاع میں سمندر میں ماہی گیری پر پابندی لگا دی ہے اور پہاڑی علاقوں، آبشاروں اور ڈیموں میں سیاحوں کے داخلے پر بھی پابندی عائد کر دی ہے۔

ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام نے ریسکیو ٹیمیں متحرک کر دی ہیں، کمزور علاقوں کی نشاندہی کر لی ہے اور انخلا کے انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ ساحلی اضلاع میں انتہائی بھاری بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے — کاکی ناڈا، ایلورو، مشرقی و مغربی گوداوری، این ٹی آر اور کرشنا اضلاع میں 24 گھنٹوں میں 200 ملی میٹر سے زیادہ بارش کا ریڈ الرٹ ہے، جب کہ سریکاکولم، وجیا نگرم اور اناکاپلی سمیت کئی اضلاع میں 110 سے 200 ملی میٹر بارش کا اورنج الرٹ جاری ہے۔

طوفانی لہر کا خطرہ

آئی ایم ڈی نے خبردار کیا ہے کہ لینڈ فال کے وقت آندھرا پردیش کے نشیبی ساحلی علاقوں میں سمندری لہر معمول کی لہر سے تقریباً 1 سے 1.5 میٹر بلند ہو سکتی ہے۔ سب سے زیادہ لہر مشرقی گوداوری ضلع، کاکی ناڈا کے قریب اور یانم کے علاقے میں متوقع ہے۔ طوفانی لہر اس وقت زیادہ خطرناک ہو جاتی ہے جب وہ مدوجزر کے عروج کے ساتھ مل جائے، جس سے ساحلی گاؤں میں پانی داخل ہو سکتا ہے اور گھروں و انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

طوفان کی آمد سے آندھرا پردیش کے بلدیاتی انتخابات پر بھی سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ یکم نومبر کو ہونے والے شہری بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے ریاستی الیکشن کمشنر نے ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام سے ہنگامی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا ہے تاکہ انتخابات شیڈول کے مطابق ہو سکیں۔

تمل ناڈو میں بھی بارش

طوفان کے اثرات صرف آندھرا پردیش اور اوڈیشہ تک محدود نہیں رہیں گے۔ تمل ناڈو میں پہلے سے جاری شمال مشرقی مون سون کی بارشوں میں بھی شدت آ سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیج بنگال میں 2026 کا یہ پہلا طوفان ہے جو بھارتی ساحل سے ٹکرائے گا، اس لیے حکام اسے انتہائی سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

موسم کی مجموعی صورت حال کے بارے میں یہاں پڑھیں۔ ساحلی علاقوں کے رہائشیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ حکام کی ہدایات پر عمل کریں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور انخلا کے احکامات ملنے پر فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔

ماخذ: آئی ایم ڈی بلیٹن، رائٹرز، دی ہندو لائیو، انڈین ایکسپریس، دی نیوز منٹ — 26 اکتوبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *