مستونگ میں 20 زیرِ تربیت پولیس اہلکار اغوا — گھر کی چھٹی پر جانے والی وین روک کر اہلکار نامعلوم مقام پر منتقل، تلاش کا آپریشن جاری
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں مسلح افراد نے قلات پولیس ٹریننگ سینٹر کے 20 زیرِ تربیت اہلکاروں کو اغوا کر لیا۔ ڈان نیوز کے مطابق تمام اہلکار ہفتے کی چھٹی پر گھر جا رہے تھے کہ جمعے کی رات مسافروں سے بھری نجی وین روکی گئی، شناخت کے بعد اہلکاروں کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا، جبکہ ڈرائیور اور تین عام مسافروں کو رہا کر دیا گیا۔
واقعہ کیسے پیش آیا؟
ڈان کے مطابق بلوچستان حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اغوا کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ وین مستونگ میں کوئٹہ–کراچی ہائی وے پر جا رہی تھی کہ موٹرسائیکلوں پر سوار، خودکار اسلحے سے لیس مسلح افراد نے وین روک لی۔ ڈان کے مطابق مسلح افراد اہلکاروں کو گاڑی سمیت نامعلوم مقام پر لے گئے۔
اردو پوائنٹ (انڈیپینڈنٹ اردو کے حوالے سے) نے رپورٹ کیا کہ تمام اغوا شدہ اہلکار رخشان ڈویژن سے تعلق رکھتے ہیں اور قلات پولیس ٹریننگ سینٹر سے چھٹی پر جا رہے تھے۔ رپورٹ کے مطابق مسلح افراد نے وین میں سوار تمام افراد کے شناختی دستاویزات چیک کیے، تین عام مسافروں کو چھوڑ دیا اور 20 اہلکاروں کو یرغمال بنا لیا۔ مختلف رپورٹس میں جائے وقوعہ کے بارے میں معمولی اختلاف ہے — ڈان نے کوئٹہ–کراچی ہائی وے (مستونگ) کا ذکر کیا جبکہ انڈیپینڈنٹ اردو نے قلات اور نوشکی کے درمیان سربند کے راستے کی اطلاع دی۔
ڈان کے مطابق اغوا شدہ اہلکار لیویز فورس کے سابق اہلکار ہیں جنہیں دونوں فورسز کے انضمام کے بعد پولیس میں شامل کیا گیا تھا۔
حملہ آور کون تھے؟
حملہ آوروں کی شناخت اور اغوا کا محرک ابھی تک نامعلوم ہے۔ ڈان اور پاجھوک کے مطابق اب تک کسی گروپ نے اغوا کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ بھارتی میڈیا CNN-News18 کے دعوے کے مطابق حکام نے بلوچ علیحدگی پسندوں پر شبہ ظاہر کیا ہے، تاہم یہ دعویٰ آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکا۔
سرچ آپریشن جاری
ڈان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے اغوا شدہ اہلکاروں کی تلاش کے لیے قریبی پہاڑی علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور مستونگ کے اردگرد چیک پوائنٹس قائم کر دیے گئے ہیں۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ابھی تک اہلکاروں کے ٹھکانے کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے۔
پس منظر: دو ماہ میں چوتھا بڑا اغوا
اردو پوائنٹ کے مطابق یہ پچھلے دو ماہ کے دوران بلوچستان کے حساس علاقے میں سرکاری اہلکاروں کے اغوا کا چوتھا بڑا واقعہ ہے۔ اسی ہفتے رخشان ڈویژن کے کمشنر اسداللہ کاکڑ کو ان کے ڈرائیور سمیت ضلع خاران میں اغوا کیا گیا تھا اور وہ ابھی تک لاپتہ ہیں۔ اس سے قبل خاران کے ڈپٹی کمشنر منیر احمد سومرو کو قبائلی عمائدین اور اغوا کاروں کے درمیان مذاکرات کے بعد تین اکتوبر کو بحفاظت رہا کیا گیا تھا — انہیں پچھلے ماہ نوشکی–خاران ہائی وے سے اغوا کیا گیا تھا۔ ڈان کے مطابق 21 جولائی کو ضلع چاغئی میں ایک چیک پوسٹ پر حملے کے بعد تین ایکسائز اہلکاروں کو بھی اغوا کیا گیا تھا۔
(ذرائع: ڈان، ڈیلی پاکستان انگلش، اردو پوائنٹ/انڈیپینڈنٹ اردو، پاجھوک/ایکسپریس اردو — تمام خبریں 17 اکتوبر 2026 کی ہیں)