ٹائیفون چمپی — تائیوان مکمل بند، 600 پروازیں منسوخ
ٹائیفون چمپی کے خطرے کے پیش نظر تائیوان جمعے 23 اکتوبر کو تقریباً مکمل طور پر بند ہو گیا — ملک بھر میں اسکول، دفاتر اور مالیاتی مارکیٹیں بند کر دی گئیں، جبکہ 191 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والی ہواؤں کے باعث 600 سے زائد پروازیں منسوخ کرنی پڑیں۔ طوفان کی شدت کم ہو رہی ہے اور اس کا براہ راست ٹکراؤ متوقع نہیں ہے، لیکن موسمیاتی ماہرین کے مطابق اس کے اثرات دو دن تک جاری رہ سکتے ہیں۔
طوفان کی شدت اور رخ
تائیوان کی مرکزی موسمیاتی انتظامیہ (CWA) کے مطابق چمپی ایک وقت میں سپر ٹائیفون تھا اور اس سال بحر الکاہل کے طاقتور ترین طوفانوں میں سے ایک ہے۔ طوفان کے مرکز کے قریب ہواؤں کی رفتار 191 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ رہی ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق طوفان تائیوان کے جنوبی کنارے سے تقریباً 330 کلومیٹر مشرق میں موجود تھا۔
موسمیاتی پیشگوئی کے مطابق چمپی شمال مشرقی تائیوان کے قریب سے گزرے گا، پھر شمال کی طرف چین کے ساحل کی طرف مڑے گا اور بالآخر جنوبی جاپان کی طرف بڑھے گا۔ طوفان کا دائرہ تقریباً 320 کلومیٹر ہے — اتنا بڑا کہ تائیوان کا بیشتر حصہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔
فلائٹس اور کاروبار کی بندش
تائیوان کی وزارت ٹرانسپورٹ کے مطابق جمعے کو تمام 262 گھریلو پروازیں منسوخ کر دی گئیں، جبکہ 350 سے زائد بین الاقوامی پروازیں بھی منسوخ ہوئیں — یعنی ایک ہی دن میں 600 سے زائد پروازیں متاثر ہوئیں۔ تائیوان کی مالیاتی مارکیٹیں بھی جمعے کو بند رہیں۔
صرف چین کے ساحل کے قریب واقع تائیوان کے زیر انتظام کنمین جزائر میں اسکول اور دفاتر معمول کے مطابق کھلے رہے۔ دارالحکومت تائی پے میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارشیں ہوئیں، تاہم میٹرو سمیت پبلک ٹرانسپورٹ محدود سروس کے ساتھ چلتی رہی۔
تائیوان کی تیاری اور جاپان کی جانب رخ
تائیوان طوفانوں سے نمٹنے کے لیے عموماً بہت اچھی تیاری رکھتا ہے، جس کی وجہ سے جانی نقصان کم ہوتا ہے۔ اگرچہ یہ طوفان گرمیوں میں زیادہ آتے ہیں، لیکن خزاں میں بھی ان کا خطرہ برقرار رہتا ہے۔ موسمیاتی انتظامیہ کے مطابق طوفان کے اثرات تقریباً دو دن تک جاری رہ سکتے ہیں۔
پیشگوئی کے مطابق چمپی سب سے پہلے جاپان کے مغربی ترین آباد جزیرے یوناگونی (اوکیناوا پریفیکچر) کے اوپر سے گزرے گا، جس کے بعد وہ جنوبی جاپان کی طرف بڑھے گا۔
یاد رہے کہ عالمی سطح پر اسی ہفتے مشرق وسطیٰ میں بھی بڑا بحران جاری ہے — آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں اور تیل کی قیمتوں میں اضافے نے عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ صحت کے شعبے میں بھی تشویشناک خبر سامنے آئی تھی کہ فرانس میں شامونڈا وائرس کا پہلا انسانی کیس رپورٹ ہوا تھا۔
Source: Reuters (Taipei, 23 Oct 2026) — reporting by Ben Blanchard, edited by Lincoln Feast; figures from Taiwan’s Central Weather Administration (CWA).