ٹرمپ کا وال اسٹریٹ جرنل مقدمہ خارج، دوبارہ دائر نہیں ہوگا

0

امریکی وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا وال اسٹریٹ جرنل اور میڈیا مالک روپرٹ مرڈوک کے خلاف ہرجانے کا مقدمہ مستقل طور پر خارج کر دیا ہے۔ میامی کے امریکی ڈسٹرکٹ جج ڈیرن گیلز نے ہفتے کو فیصلہ سنایا کہ ٹرمپ یہ ثابت نہیں کر سکے کہ اخبار نے ان کے بارے میں جان بوجھ کر جھوٹی یا بدنیتی پر مبنی خبر شائع کی۔ مقدمہ “with prejudice” خارج ہوا ہے، یعنی اسی دعوے پر دوبارہ مقدمہ دائر نہیں کیا جا سکتا۔

جج کا فیصلہ: اصل بدنیتی ثابت نہیں ہوئی

جج گیلز نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ٹرمپ کی ترمیم شدہ درخواست میں بھی یہ واضح طور پر نہیں بتایا گیا کہ ہر مدعا علیہ نے “actual malice” یعنی جان بوجھ کر جھوٹ یا سچ سے بے پروائی کے ساتھ ہتک آمیز بیان دیا۔ امریکی قانون کے تحت کسی عوامی شخصیت کو ہتک عزت کا مقدمہ جیتنے کے لیے یہ معیار پورا کرنا لازم ہوتا ہے۔

جج نے یہ بھی کہا کہ مقدمہ اخبار کی تفتیشی رپورٹنگ میں خامیاں “گھڑنے” کی کوشش کر رہا تھا اور ان کے بقول یہ “تِنکوں کا سہارا لینے” کے مترادف تھا۔ انہوں نے ٹرمپ کی اس دلیل کو بھی مسترد کر دیا کہ اخبار کو ان کے انکار کے بعد خبر روک دینی چاہیے تھی، اور کہا کہ ایسی شرط پہلی ترمیم (آزادی اظہار) کی خلاف ورزی ہوگی۔

مقدمہ کس خبر پر تھا؟

یہ مقدمہ وال اسٹریٹ جرنل کی جولائی 2025 کی اس رپورٹ پر دائر ہوا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جیفری ایپسٹین کی 50 ویں سالگرہ کے لیے 2003 میں تیار کیے گئے البم میں ٹرمپ کے نام سے ایک قابل اعتراض خط اور ایک خاتون کی تصویر شامل تھی۔ اخبار کے مطابق یہ مواد ایپسٹین کی ساتھی گھسلین میکسویل نے اکٹھا کیا تھا۔ ٹرمپ نے اس خط کے لکھنے سے انکار کیا تھا اور اخبار، اس کے مالکان، ناشر اور دو رپورٹرز پر جان بوجھ کر جھوٹی خبر شائع کرنے کا الزام لگایا تھا۔

یہ مقدمہ پہلی بار نہیں خارج ہوا۔ جج گیلز نے اپریل میں بھی ٹرمپ کی اصل درخواست خارج کی تھی، لیکن اس وقت “without prejudice” فیصلہ دیا تھا جس سے ترمیم کی گنجائش باقی رہی۔ ٹرمپ کی قانونی ٹیم نے مئی میں ترمیم شدہ درخواست دائر کی، جسے اب دوسری بار — اور اس بار مستقل طور پر — خارج کر دیا گیا ہے۔ جج نے لکھا کہ “پہلی کوشش کی طرح دوسری کوشش میں بھی” بدنیتی ثابت نہیں ہو سکی۔

ہرجانے کی رقم پر رپورٹوں میں فرق

مختلف خبر رساں اداروں نے مقدمے میں مانگے گئے ہرجانے کی رقم مختلف بتائی ہے — بعض نے 10 ارب ڈالر اور بعض نے 20 ارب ڈالر لکھا ہے۔ اس لیے اس خبر میں صرف یہ لکھا جا رہا ہے کہ مقدمہ اربوں ڈالر کے ہرجانے کا تھا، تاکہ کوئی غیر مصدقہ رقم بطور حقیقت پیش نہ ہو۔

پس منظر: ایپسٹین کیس اور سیاسی دباؤ

جیفری ایپسٹین ایک بدنام زمانہ سرمایہ کار تھا جسے جنسی جرائم کے الزامات کا سامنا تھا اور وہ 2019 میں جیل میں ہلاک ہو گیا تھا۔ اس سے متعلق فائلیں اور روابط امریکی سیاست میں طویل عرصے سے تنازع کا موضوع ہیں۔ ٹرمپ کے اس مقدمے کو ان کے ناقدین ایپسٹین سے متعلق رپورٹنگ پر دباؤ کی کوشش قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ کے حامی اسے جھوٹی رپورٹنگ کے خلاف قانونی حق قرار دیتے ہیں۔

اس فیصلے کے بعد ٹرمپ کے پاس اسی دعوے کو اس عدالت میں دوبارہ اٹھانے کا راستہ بند ہو گیا ہے، البتہ اپیل کا قانونی آپشن عام طور پر ایسے فیصلوں کے بعد موجود ہوتا ہے — اس بارے میں کسی اپیل کا اعلان تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔

مزید عالمی خبروں کے لیے پڑھیں: امریکی جج نے محکمہ انصاف کو انتخابی دھمکیوں سے روک دیا اور ایران کا 7 روزہ امن منصوبہ، وینس کا خط موصول۔

ذرائع: سی این این، فرسٹ پوسٹ، دی ہندو بزنس لائن، ملے میل، دی ایج ملائیشیا، منیلا ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ — یکم نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *