پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ — کے ایس ای 100 انڈیکس 814 پوائنٹس گر کر 1 لاکھ 65 ہزار کی سطح پر آ گیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ — کے ایس ای 100 انڈیکس 814 پوائنٹس گر کر 1 لاکھ 65 ہزار کی سطح پر آ گیا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا معیاری انڈیکس کے ایس ای 100 منگل 21 اکتوبر 2026 کو 814 پوائنٹس گر کر 1,65,151.64 کی سطح پر بند ہوا — پچھلے سیشن کے 1,65,966.08 کے مقابلے میں 0.49 فیصد کی کمی۔ دن کے دوران انڈیکس 1,66,425.56 کی بلندی تک گیا تھا، مگر فروخت کے دباؤ کے باعث 1,65,111.14 کی نچلی سطح پر آ کر وہیں کے قریب بند ہوا، جیسا کہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ڈیٹا پورٹل کے سرکاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔
خریداروں کا جذبہ دوپہر تک برقرار، پھر فروخت کا دباؤ
سرمایہ کاروں نے صبح خریداری کے موڈ میں کاروبار شروع کیا — آٹو اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس اور مارکیٹنگ کمپنیوں کے شیئرز میں خریداری ہوئی۔ یہ مثبت فضا دوپہر تک برقرار رہی، مگر اس کے بعد فروخت کا دباؤ بڑھ گیا اور انڈیکس دن کے اختتام پر نچلی سطح کے قریب بند ہوا۔
سیشن کے دوران کل 499 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا — 128 میں اضافہ، 324 میں کمی اور 47 میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ ریگولر مارکیٹ میں 446.8 ملین شیئرز کا لین دین ہوا جس کی مالیت تقریباً 19.43 ارب روپے بنی۔
تیل کی بڑھتی قیمتیں — گراوٹ کی اصل وجہ
مارکیٹ کی سمت میں تبدیلی عالمی تیل کی قیمتوں کے پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے ساتھ ہوئی — برینٹ کروڈ کا فی بیرل قیمت 109 ڈالر کے قریب پہنچ گئی۔ بروکرز اور تجزیہ کاروں نے سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کو تیل کی بڑھتی قیمتوں سے جوڑا، جبکہ حوثیوں کے سعودی انفراسٹرکچر پر حملوں اور خلیج میں جہازوں پر واقعات کے بعد جغرافیائی سیاسی خطرات بڑھنے کو بھی وجہ قرار دیا گیا۔
کے ٹریڈ سیکیورٹیز کے مارکیٹ جائزے میں پانچ انڈیکس ہیوی اسٹاکس — اٹک ریفائنری، سسٹمز لمیٹڈ، حبیب بینک، حب پاور اور فوجی فرٹیلائزر — کو دن کی گراوٹ کا سب سے بڑا ذمہ دار قرار دیا گیا۔
کمپنیوں کی آمدنی میں بہتری پھر بھی مارکیٹ نہ بچ سکی
کارپوریٹ نتائج ملے جلے رہے۔ پاکستان آئل فیلڈز کی سہ ماہی آمدنی 8.2 ارب روپے رہی (فی شیئر 28.86 روپے) — سالانہ بنیاد پر 51 فیصد اضافہ۔ اٹک پیٹرولیم کی آمدنی 74 فیصد بڑھ کر 6.64 ارب روپے رہی، جبکہ اٹک ریفائنری کا خالص منافع 13 گنا بڑھ کر 18.6 ارب روپے تک پہنچ گیا — لیکن ان مثبت نتائج کے باوجود یہ شیئرز دن کے گرنے والوں میں شامل رہے۔
حجم کے لحاظ سے سینرجیکو پاکستان سب سے آگے رہا — 46.5 ملین شیئرز کا کاروبار ہوا اور قیمت 0.47 روپے گر کر 12.41 روپے پر آ گئی۔ نیشنل کلیئرنگ کمپنی کے اعداد و شمار کے مطابق غیر ملکی سرمایہ کاروں نے دن میں 206 ملین روپے کی خالص خریداری کی۔
تجزیہ کاروں کا آؤٹ لک: اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے
کے ٹریڈ نے خبردار کیا کہ مارکیٹ محدود دائرے میں رہے گی اور قریب مدتی سمت کا انحصار عالمی تیل کی قیمتوں، جغرافیائی سیاسی صورتحال اور کارپوریٹ نتائج پر ہوگا۔ عارف حبیب لمیٹڈ کے ڈپٹی ہیڈ آف ٹریڈنگ علی نجیب نے کہا کہ تیل کی بڑھتی قیمتوں اور محتاط جذبات کے باعث مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
واضح رہے کہ اکتوبر کے اوائل میں آئی ایم ایف کے ساتھ چوتھے ای ایف ایف جائزے پر عملے کی سطح کے معاہدے کے بعد 1.21 ارب ڈالر کی ممکنہ مالی امداد کی امید بھی انڈیکس کو علاقائی خطرات کے دباؤ سے نہیں بچا سکی۔
ذرائع: پاکستان اسٹاک ایکسچینج ڈیٹا پورٹل (21 اکتوبر 2026)، ایکسپریس ٹریبیون مارکیٹ ریپ۔