پزشکیان کا امریکا پر الزام — عبوری معاہدہ ناکام

0

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکا پر ایران کے ساتھ عبوری معاہدے کی ناکامی کا الزام لگا دیا ہے، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ معاہدے کو مکمل کرنے کی ایک نئی کوشش ہونی چاہیے۔ پزشکیان نے ہفتے کے روز سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے بیان میں کہا کہ مذاکرات جاری تھے مگر امریکا نے سب کچھ خراب کر دیا، پھر بھی ان کا خیال ہے کہ فریقین کو آگے بڑھ کر معاہدہ طے کرنا چاہیے۔

پزشکیان نے کیا کہا؟

پزشکیان کے الفاظ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یوں تھے: “ہم مذاکرات کر رہے تھے، بزدلوں (امریکیوں) نے سب کچھ خراب کر دیا… میں اب بھی سمجھتا ہوں کہ ہمیں جا کر اسے مکمل کرنا چاہیے۔” یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے دوبارہ بھڑک اٹھنے کا خدشہ بڑھ رہا ہے، اور دونوں جانب سے حملوں کی وارننگز کا سلسلہ جاری ہے۔

ایرانی صدر کا یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ تہران بات چیت کا دروازہ مکمل بند نہیں کرنا چاہتا، بلکہ ناکام ہونے والے عبوری معاہدے کو دوبارہ زندہ کرنے کا خواہاں ہے۔ دوسری جانب واشنگٹن کی جانب سے اب تک اس بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران پر حملہ اسی ہفتے ممکن — امریکی ایلچی https://niazitvnews.com/?p=1726

پاکستان کا کردار اور ہرمز کا معاملہ

ایران کے اسلام آباد میں سفیر رضا امیری مقدم نے بھی ہفتے کے روز کہا کہ تہران پاکستان کی ثالثی میں طے پانے والے عبوری معاہدے کے تحت واشنگٹن سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق ایران نے پاکستان کے ذریعے پیغام پہنچایا تھا کہ اگر امریکا اپنی بحری ناکہ بندی ختم کر دے تو تہران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے تیار ہے، لیکن امریکی صدر نے اس تجویز کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

یہ پیش رفت اس لیے اہم ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی توانائی کی فراہمی کا ایک اہم راستہ ہے، اور اس کی بندش یا کشیدگی سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں پر براہ راست اثر پڑتا ہے۔ پاکستان اس تنازع میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، اور اسلام آباد پہلے بھی دونوں فریقین کے درمیان پیغام رسانی کر چکا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے خلیل زاد کے الزامات مسترد کر دیے https://niazitvnews.com/?p=1762

پس منظر: جنگ کیسے شروع ہوئی اور معاہدہ کیوں ٹوٹا؟

امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر مشترکہ فضائی حملے کیے تھے، جس کے بعد ایران نے اسرائیل اور خلیج میں امریکی اڈوں کی میزبانی کرنے والی ریاستوں پر جوابی حملے کیے۔ جون میں دونوں فریقین کے درمیان ایک جنگ بندی معاہدہ ہوا تھا جس کا مقصد آبنائے ہرمز سے جہاز رانی بحال کرنا، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنا اور ایران کے جوہری پروگرام پر وسیع تر معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کرنا تھا۔

تاہم یہ معاہدہ جلد ہی ٹوٹ گیا، جس کے بعد کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی اور تنازع طویل ہو گیا۔ اس کے بعد سے ثالثوں کی جانب سے واشنگٹن اور تہران کو دوبارہ باضابطہ مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں، لیکن اب تک کوئی حتمی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ یورپی اور مشرق وسطیٰ کے وزرا بھی امریکا اور ایران کے درمیان سفارت کاری پر زور دے رہے ہیں، نہ کہ نئے حملوں پر۔

آگے کیا ہو سکتا ہے؟

پزشکیان کے بیان سے دو پیغام بیک وقت ملتے ہیں: ایک طرف امریکا پر الزام، دوسری طرف مذاکرات کی خواہش۔ یہ امتزاج ظاہر کرتا ہے کہ تہران دباؤ کے باوجود سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم امریکی صدر کی جانب سے ایران کے خلاف ایک اور فوجی کارروائی کی دھمکیاں بھی موجود ہیں، جس سے خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

پاکستان سمیت خطے کے ممالک کے لیے یہ صورتحال براہ راست اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ توانائی کی قیمتوں، تجارتی راستوں اور علاقائی سلامتی پر اس تنازع کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ کیا ثالثوں کی کوششیں دونوں فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لا پاتی ہیں یا کشیدگی مزید بڑھتی ہے۔

ماخذ کریڈٹ: رائٹرز، الجزیرہ، العربیہ اور ٹائمز ناؤ — 24 اکتوبر 2026۔ تمام اقتباسات متعلقہ رہنماؤں کے بیانات کے حوالے سے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *