ڈیانا کیس: 2 کروڑ رشوت کا الزام، وکیل کی تردید
لاہور میں آذربائیجان کی شہری ڈیانا کے مبینہ زیادتی کیس میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ لاہور پولیس کے ذرائع کے مطابق ڈیانا کو ملزم احمد تنویر کو بے گناہ قرار دینے والے ویڈیو بیان کے بدلے 2 کروڑ روپے دیے گئے، جبکہ ملزم کے وکیل صفدر شاہین نے اس الزام کی سختی سے تردید کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ کیس کی میرٹ پر تحقیقات جاری رکھے گی، چاہے ویڈیو بیان کچھ بھی کہے۔
ذرائع کا دعویٰ کیا ہے؟
آج ٹی وی کی خبر کے مطابق لاہور پولیس کے ذرائع نے ہفتے 24 اکتوبر کو دعویٰ کیا کہ ڈیانا، جنہوں نے تین افراد پر زیادتی کا الزام لگایا تھا، کو ویڈیو بیان جاری کرنے کے بدلے 2 کروڑ روپے ملے۔ ذرائع کے مطابق احمد تنویر کا تعلق ایک بااثر اور امیر خاندان سے ہے، ان کے والد بڑے ٹھیکیدار ہیں، اور تنویر کے رشتہ داروں اور ایک وکیل نے فون پر ڈیانا سے رابطہ کر کے ویڈیو بیان پر آمادہ کیا۔ ذرائع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ تنویر کے والد بیان پر رضامندی کے بعد لندن سے آذربائیجان گئے، اور ڈیانا اب مبینہ طور پر رقم ملنے کے بعد دبئی میں ہیں۔ یہ تمام دعوے ذرائع سے منسوب ہیں، عدالت یا پولیس کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
وکیل کی تردید اور پولیس کا موقف
ملزم کے وکیل صفدر شاہین نے آذربائیجان جانے یا ڈیانا سے فون پر بات کرنے کی تردید کرتے ہوئے رشوت کے الزام کو مسترد کر دیا ہے۔ دوسری جانب ڈپٹی انسپکٹر جنرل انویسٹی گیشن زیشان رضا نے کہا ہے کہ خاتون کا بیان پہلے ہی عدالت میں دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ ہو چکا ہے، اور پولیس کیس کی میرٹ پر تحقیقات جاری رکھے گی۔ پولیس کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا ویڈیو بیان تحقیقات پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہو سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی خبردار کیا تھا کہ ویڈیو تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
ڈیانا کا ویڈیو بیان کیا تھا؟
ڈیانا نے اپنے تازہ ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ احمد تنویر نے نہ ان کے ساتھ زیادتی کی اور نہ ان کا موبائل فون لیا، بلکہ انہوں نے فون اور سامان واپس کر دیا تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کا پہلا بیان دباؤ کے تحت دیا گیا تھا، اور وہ چاہتی ہیں کہ کیس ختم کر دیا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ عدالت میں بیان دینا چاہتی تھیں لیکن انہیں جان کو خطرہ بتا کر زبردستی پاکستان سے باہر بھیجا گیا، اور انہیں اپنی مرضی سے اظہار کا موقع نہیں دیا گیا۔ ڈیانا نے دیگر دو ملزمان محسن اور عزیر کو بھی معاف کرنے کا ذکر کیا۔ تاہم ان کا تازہ بیان عدالت میں دیے گئے پہلے بیان سے مختلف ہے، جس میں تینوں افراد کا نام لیا گیا تھا۔ ملزم احمد تنویر کو سیشن کورٹ سے 27 اکتوبر تک عبوری ضمانت ملی ہوئی تھی، اور ان کی گرفتاری عدالت کے باہر ہونے پر بھی تنازع کھڑا ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: کوئٹہ میں ماں کا پولیس افسر پر بیٹے کے قتل کا الزام — https://niazitvnews.com/?p=1758 اور لاہور ہائیکورٹ نے ڈی پی او بھکر کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے — https://niazitvnews.com/?p=1688
ذرائع: آج ٹی وی، پاکستان ٹوڈے، ہم انگلش، دنیا نیوز (23 تا 24 اکتوبر 2026)۔ تمام الزامات متعلقہ فریقوں کے حوالے سے بیان کیے گئے ہیں، ملزمان کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں دیا گیا۔