پشاور ہائی کورٹ نے گورنر راج اور ایمرجنسی پر وفاق سے جواب طلب کر لیا، سماعت 10 نومبر تک ملتوی
پشاور ہائی کورٹ نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے خلاف دائر درخواستوں پر وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل، ایڈووکیٹ جنرل اور متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل ڈویژن بنچ نے منگل کو درخواستوں کی سماعت کی، جنہیں پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور این ڈی ایم کے رہنماؤں بشمول محسن داوڑ نے دائر کیا تھا۔
عدالت میں دلائل اور فریقین کا موقف
درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر سمیع کھوسہ نے دلیل دی کہ صوبائی حکومت نے صوبے پر کنٹرول نہیں کھویا، اور ایمرجنسی و گورنر راج کا نفاذ صوبائی خودمختاری اور جمہوریت پر حملہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیر فعال وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی لاپتہ ہیں اور ان کا کوئی پتہ نہیں۔ جسٹس انور نے پوچھا کہ کیا درخواست میں ان کی بازیابی یا عدالت میں پیشی کا مطالبہ کیا گیا ہے، جس پر کھوسہ نے کہا کہ یہی استدعا کی گئی ہے۔ انہوں نے سپریم کورٹ کے پیر صابر شاہ کیس کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایمرجنسی لگنے کی صورت میں بھی وزیر اعلیٰ اور کابینہ کام جاری رکھتے ہیں، جبکہ اس کیس میں انہیں کام سے روک کر غیر فعال کر دیا گیا۔
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ ایمرجنسی کے لیے صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری تھی اور گورنر راج تبھی جائز ہو سکتا ہے جب صوبائی حکومت کام کرنے سے قاصر ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ صوبے میں گھروں کے تقدس اور اہل خانہ کی پرائیویسی پامال ہو رہی ہے۔ وکیل معظم بٹ نے کہا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ایپکس کمیٹی موجود ہے، اور پوچھا کہ گورنر کی وہ رپورٹ کہاں ہے جس کی بنیاد پر صدر کے بقول گورنر راج لگایا گیا۔
عدالت کا حکم اور آئندہ سماعت
سماعت کے بعد جسٹس اعجاز انور نے وفاقی حکومت، اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کیے۔ عبوری ریلیف کی استدعا پر عدالت نے کہا کہ وہ اس کا جائزہ لے کر حکم جاری کرے گی۔ سماعت 10 نومبر تک ملتوی کر دی گئی۔ عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر نے دعویٰ کیا کہ ان کا مینڈیٹ چھینا گیا اور 12 ارکان قومی اسمبلی اور 14 ارکان صوبائی اسمبلی کو اٹھایا گیا — یہ گوہر کا اپنا الزام ہے، اس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے کہا کہ فیصلے عدالتیں کریں، ورنہ معاملات سڑکوں پر آئیں گے۔
(ذریعہ: دی ایکسپریس ٹریبیون، ڈان)