پنجاب میں فصلوں کی آگ: 13,241 واقعات، سموگ خطرہ

0

پنجاب میں فصلوں کی آگ کے واقعات میں خطرناک اضافہ ہو گیا ہے۔ ناسا کے فائر انفارمیشن فار ریسورس مینجمنٹ سسٹم کے اعداد کے مطابق یکم سے 29 اکتوبر 2026 کے دوران پاکستانی پنجاب میں فصلوں کی آگ کے 13,241 واقعات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ اسی عرصے میں بھارتی پنجاب میں صرف 3,158 واقعات سامنے آئے۔ اس طرح پاکستانی پنجاب میں آگ لگانے کے واقعات بھارتی پنجاب سے تقریباً 4.2 گنا زیادہ ہیں، اور ماہرین کے مطابق یہی دھواں خطے میں سموگ کی شدت بڑھا رہا ہے۔

لاہور کے اردگرد آگ میں تیزی

رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے آخری ہفتے میں لاہور اور اس کے ملحقہ علاقوں میں فصلوں کی آگ کے واقعات میں خاص طور پر تیزی آئی۔ اسی دوران لاہور کا فضائی آلودگی اشاریہ (اے کیو آئی) 500 سے تجاوز کر گیا تھا، جس سے شہر دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہو گیا۔ تجزیے میں بتایا گیا ہے کہ ریکارڈ کیے گئے واقعات میں سے 92 فیصد زرعی زمین پر ہوئے اور ان کا تعلق فصلوں کی باقیات جلانے سے ہے۔

دہلی تک دھواں پہنچنے کا خدشہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ شمال مغربی ہوائیں پاکستان کے زرعی علاقوں سے دھواں دہلی اور اس کے ملحقہ علاقوں (این سی آر) کی طرف لے جا سکتی ہیں۔ دہلی میں ہوا کا معیار پہلے ہی خراب ہو چکا ہے؛ 30 اکتوبر کو بارش کے بعد دہلی کا اے کیو آئی 60 تک آ گیا تھا، مگر 2 نومبر کو یہ دوبارہ “بہت خراب” درجے میں چلا گیا اور 3 نومبر کو اوسطاً 330 ریکارڈ ہوا، جبکہ کم از کم تین مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر یہ 400 سے اوپر، یعنی “شدید” درجے میں رہا۔ اس صورتحال پر دہلی این سی آر میں گریڈڈ ریسپانس ایکشن پلان کا دوسرا مرحلہ نافذ کر دیا گیا ہے، جس میں سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ، اینٹی سموگ گنوں کا استعمال اور تعمیراتی مقامات کی سخت نگرانی شامل ہے۔

آئندہ دنوں میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اکتوبر میں غیر موسمی بارش، جس کا تعلق سمندری طوفان ارناب سے جوڑا گیا ہے، کے باعث کئی کسانوں کی کٹائی میں تاخیر ہوئی۔ اب جب کٹائی تیزی سے جاری ہے تو فصلوں کی آگ کے واقعات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق شمال مغربی ہوائیں آئندہ چار روز تک جاری رہنے کا امکان ہے، اور درجہ حرارت گرنے اور ہوا کی رفتار کم ہونے سے آلودگی زمین کے قریب جمع رہ سکتی ہے، جس سے آئندہ دو سے تین روز میں دہلی کی ہوا “شدید” درجے تک پہنچنے کا خطرہ ہے۔ دیوالی قریب آنے پر آتش بازی کا اضافی دھواں صورتحال کو مزید خراب کر سکتا ہے۔

پاکستان میں بھی احتیاط کی ضرورت

پاکستان میں بھی سموگ کا موسم شدت اختیار کر چکا ہے۔ لاہور میں فضائی آلودگی پہلے ہی خطرناک سطح پر ہے اور ماہرین شہریوں کو غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز، ماسک کے استعمال اور بچوں و بزرگوں کی خصوصی احتیاط کی ہدایت کر رہے ہیں۔ کسانوں سے اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ فصلوں کی باقیات جلانے کے بجائے متبادل طریقے اپنائیں تاکہ فضا کو مزید آلودہ ہونے سے بچایا جا سکے۔
مزید پڑھیں: لاہور سموگ: اے کیو آئی 530، دنیا کا آلودہ ترین شہر (https://niazitvnews.com/?p=3409) اور 4 نومبر موسم: بالائی علاقوں میں بارش، برفباری (https://niazitvnews.com/?p=3509)۔
ماخذ: دی ٹریبیون (انڈیا)، 3 نومبر 2026؛ ناسا فرمز سیٹلائٹ ڈیٹا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *