پولیو مہم 2 نومبر سے: 2.4 کروڑ بچوں کو قطرے
پولیو مہم 2 نومبر سے شروع ہو رہی ہے، جس میں ملک کے 97 منتخب اضلاع میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔ یہ مہم 8 نومبر تک جاری رہے گی اور اس میں 2 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن ورکرز حصہ لیں گے۔
وفاقی وزیر برائے قومی صحت سید مصطفیٰ کمال نے جمعے کو اسلام آباد میں نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر میں مہم کا افتتاح کیا اور پہلے بچے کو پولیو کے قطرے پلا کر اس کا آغاز کیا۔ یہ اس سال کی پانچویں بڑی مہم اور تیسری ذیلی قومی مہم ہے۔
مہم کب اور کہاں ہوگی
یہ ذیلی قومی مہم ہے، یعنی اس کا دائرہ ملک کے تمام اضلاع تک نہیں، بلکہ 97 زیادہ خطرے والے اضلاع تک محدود ہے۔ مہم کے دوران پولیو ورکرز گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کو اورل پولیو ویکسین کے دو قطرے پلائیں گے۔
صوبائی تفصیل کے مطابق پنجاب کے 13 اضلاع میں 92 لاکھ 78 ہزار سے زائد بچوں، سندھ کے 20 اضلاع میں 68 لاکھ 83 ہزار سے زائد بچوں، خیبر پختونخوا کے 27 اضلاع میں 48 لاکھ 8 ہزار سے زائد بچوں اور بلوچستان کے 31 اضلاع میں 22 لاکھ 17 ہزار سے زائد بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف ہے۔ اسلام آباد میں 4 لاکھ 47 ہزار سے زائد، گلگت بلتستان کے تین اضلاع میں ایک لاکھ 53 ہزار اور آزاد جموں و کشمیر کے دو اضلاع میں ایک لاکھ 83 ہزار بچوں کو ویکسین دی جائے گی۔
افغانستان کے ساتھ مربوط کوشش
یہ مہم افغانستان میں بھی بیک وقت چلائی جا رہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان دنیا کے آخری دو ممالک ہیں جہاں جنگلی پولیو وائرس ابھی موجود ہے، اس لیے سرحد کے دونوں جانب مربوط کوششوں سے وائرس کی منتقلی روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق مہم کا مقصد ویکسینیشن کی کوریج مضبوط بنانا اور یہ یقینی بنانا ہے کہ ہر اہل بچہ محفوظ ہو۔ والدین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو قطرے ضرور پلوائیں اور ورکرز سے تعاون کریں۔
2026 میں اب تک سات کیس
پاکستان میں رواں سال اب تک جنگلی پولیو وائرس ٹائپ ون کے سات کیس رپورٹ ہوئے ہیں، جن میں سے پانچ خیبر پختونخوا اور دو سندھ سے ہیں۔ 1994 میں قومی انسداد پولیو پروگرام کے آغاز کے بعد سے کیسوں میں 99.8 فیصد کمی آئی ہے، جب سالانہ تقریباً 20 ہزار کیس ہوتے تھے اور 2025 میں یہ تعداد 31 رہ گئی تھی۔
وفاقی وزیر نے اس موقع پر اعتماد ظاہر کیا کہ پاکستان جون 2027 تک پولیو سے پاک ہو جائے گا، بشرطیکہ والدین اور کمیونٹیز کا تعاون مسلسل جاری رہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر مہم کے ساتھ وائرس کا دائرہ سکڑ رہا ہے، لیکن آخری مرحلے میں کوئی بچہ قطرے سے محروم نہیں رہنا چاہیے۔
والدین کے لیے اہم ہدایات
والدین کو چاہیے کہ مہم کے دوران اپنے پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو قطرے پلوائیں، چاہے انہیں پہلے بھی قطرے پلائے جا چکے ہوں۔ اگر کوئی ٹیم کسی وجہ سے گھر نہ پہنچے تو قریبی صحت مرکز سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ پولیو کے قطرے محفوظ ہیں اور یہ بچوں کو عمر بھر کی معذوری سے بچاتے ہیں۔
اس سے قبل کراچی میں پولیو کیس سامنے آنے کے بعد سندھ حکومت نے ہنگامی اقدامات کیے تھے، جس کی تفصیل https://niazitvnews.com/?p=1342 پر پڑھیں۔ بھکر میں بھی نومبر کی مہم کی تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں، جن کی تفصیل https://niazitvnews.com/?p=2767 پر موجود ہے۔
ماخذ: دی نیشن، عرب نیوز، ٹریبیون، اے پی پی — 30 اور 31 اکتوبر 2026 کی رپورٹس