گنڈاپور مذاکرات کے لیے نامزد — پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبرپختونخوا اسمبلی پارلیمانی پارٹی نے وفاقی حکومت سے مذاکرات میں نمائندگی کا مطالبہ کرتے ہوئے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کو صوبے کا نمائندہ نامزد کر دیا ہے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق یہ فیصلہ جمعرات کو ہونے والے اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں کیا گیا۔
اعلامیے کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے بات چیت کی حمایت کی ہے، جس کا مقصد صوبائی حکومت کی بحالی اور گرفتار اراکین کی رہائی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ گزشتہ ہفتے پارلیمنٹ نے صوبے میں دو ماہ کی ایمرجنسی اور گورنر راج کی توثیق کی تھی، جس کے بعد صوبائی انتظامیہ وفاقی کنٹرول میں ہے۔
گنڈاپور اور راجہ کے درمیان کشیدگی
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پی ٹی آئی کی اندرونی کشیدگی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ رواں ہفتے علی امین گنڈاپور کی مبینہ آڈیو لیک سامنے آئی تھی جس میں انہیں پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ پر “خراب منصوبہ بندی” کا الزام لگاتے سنا گیا۔ آڈیو کی آزادانہ تصدیق ابھی باقی ہے۔ دوسری جانب سلمان اکرم راجہ نے پارٹی کے اندرونی اتفاق رائے کو چیلنج ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
تاہم پارٹی قیادت کا موقف ہے کہ اندرونی اختلافات مذاکرات کی کوششوں کو متاثر نہیں کریں گے۔ چیف وہپ ملک عامر ڈوگر اور چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے واضح کیا ہے کہ سہیل آفریدی قانونی وزیراعلیٰ ہیں اور کوئی بڑا فیصلہ عمران خان کی ہدایت کے بغیر نہیں ہوتا۔
مذاکرات کی اہمیت
پی ٹی آئی کے ارکان کا کہنا ہے کہ صوبائی پارلیمانی گروپ کو کسی بھی مذاکراتی عمل میں شامل ہونا چاہیے۔ پارٹی کے مطابق ان کے 10 سے زائد اراکین اسمبلی گرفتار ہیں، اور مذاکرات سے صوبے میں سیاسی استحکام بحال ہو سکتا ہے۔ وفاقی حکومت پہلے ہی حزب اختلاف سے بات چیت کی پیشکش کر چکی ہے، جبکہ جماعت اسلامی سے پیٹرولیم لیوی پر مذاکرات بھی جاری ہیں۔
حکومت کی جانب سے علی امین گنڈاپور کی نامزدگی پر ابھی تک کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور اگلے چند دن مذاکرات کی سمت کے لیے فیصلہ کن ہو سکتے ہیں۔
پی ٹی آئی کی اندرونی صورتحال پر ہماری پہلی رپورٹیں گنڈاپور کی مبینہ آڈیو لیک (https://niazitvnews.com/?p=1328) اور خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے پیکج (https://niazitvnews.com/?p=1403) پر بھی پڑھیں۔
(ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون، میڈیا رپورٹس)