یورپ: ذخائر سے 4 کروڑ 26 لاکھ بیرل تیل جاری ہوگا
یورپ کے 11 ممالک نے موسم سرما سے پہلے توانائی کی فراہمی مستحکم رکھنے کے لیے اپنے اسٹریٹجک ذخائر سے 4 کروڑ 26 لاکھ بیرل تیل جاری کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس مقدار میں سے تقریباً نصف، یعنی 2 کروڑ 5 لاکھ بیرل، ڈیزل ہوگا، جس کی قلت یورپ میں قیمتوں میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ بنی ہوئی ہے۔
اعلان کی تفصیلات
یورپی یونین کے توانائی کمشنر ڈین جورگنسن نے لکسمبرگ میں یورپی وزرائے توانائی کے اجلاس کے بعد صحافیوں کو بتایا کہ رکن ممالک نے آئندہ مہینوں میں ذخائر سے تیل کے تیز تر اجراء کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “یورپی یونین کے رکن ممالک نے آئندہ مہینوں میں اسٹریٹجک ذخائر سے 4 کروڑ 26 لاکھ بیرل کے تیز تر اجراء کے عزم کا اعادہ کیا ہے، اور اس میں سے تقریباً نصف ڈیزل ہوگا۔”
مشترکہ بیان میں شامل ممالک میں فرانس، جرمنی اور اٹلی کے ساتھ بیلجیئم، ڈنمارک، یونان، لیٹویا، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، پرتگال اور سویڈن شامل ہیں۔ لتھوانیا نے بھی اس اقدام کی حمایت کی ہے، اگرچہ اس نے مشترکہ بیان پر دستخط نہیں کیے۔ یہ تیل جنوری 2027 کے آخر تک جاری کیا جائے گا۔
ڈیزل بحران کیوں پیدا ہوا
یورپ میں ڈیزل کی فراہمی کئی مہینوں سے دباؤ میں ہے۔ یورپی کمیشن کے ہفتہ وار آئل بلیٹن کے مطابق 26 اکتوبر کو یورپی یونین میں ڈیزل کی اوسط خوردہ قیمت تقریباً 2.15 یورو فی لیٹر تھی، جو فروری کے آخر کے مقابلے میں تقریباً 35 فیصد زیادہ ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع اور آبنائے ہرمز کے گرد سپلائی میں خلل نے عالمی ڈیزل مارکیٹ کو تنگ کر دیا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے اکتوبر کے وسط میں اپنے ارکان سے موسم سرما سے پہلے ذخائر کے اجراء میں تیزی لانے کی اپیل کی تھی۔ ایجنسی کی اکتوبر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی ڈیزل سپلائی بدستور تنگ ہے۔ اس سے پہلے مارچ میں ایجنسی کے ارکان نے مشرق وسطیٰ کے تنازع سے پیدا ہونے والی سپلائی رکاوٹوں کی تلافی کے لیے 40 کروڑ بیرل تیل جاری کرنے پر اتفاق کیا تھا۔
جی سیون معاہدے کا حصہ
یورپی اقدام اسی مہینے طے پانے والے جی سیون معاہدے کا حصہ ہے، جس کے تحت بڑی معیشتوں نے 10 کروڑ بیرل خام تیل اور ڈیزل جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ یہ معاہدہ اس وقت سامنے آیا تھا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیزل کی برآمد پر پابندی کی دھمکی دی تھی۔
یورپی کمشنر نے خبردار کیا ہے کہ یورپ کو ایک مشکل موسم سرما کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قلیل مدت میں توانائی کی فراہمی کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں ہے، لیکن توانائی کی بلند قیمتیں شہریوں کے لیے بوجھ بنی ہوئی ہیں جو اپنے بلوں کی ادائیگی میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یورپی کمیشن نے گزشتہ ہفتے ریفائنرز سے پیداوار بڑھانے کے طریقوں پر بات چیت بھی شروع کی تھی، جس میں کچھ تکنیکی شرائط میں نرمی بھی شامل ہے۔
پاکستان پر ممکنہ اثر
یورپ میں ڈیزل کی فراہمی بہتر ہونے سے عالمی مارکیٹ میں دباؤ کم ہو سکتا ہے، جس کا بالواسطہ فائدہ پاکستان جیسے درآمدی ممالک کو بھی پہنچ سکتا ہے۔ پاکستان میں ڈیزل کی قیمت پہلے ہی 400 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر چکی ہے، اس لیے عالمی سطح پر ڈیزل کی دستیابی میں بہتری مقامی قیمتوں کے لیے بھی اہم ہوگی۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ذخائر کا اجراء بتدریج ہوگا اور اس کا اثر آنے والے ہفتوں میں ظاہر ہوگا۔
مزید پڑھیں: پٹرول و ڈیزل کے تازہ نرخ یہاں دیکھیں: https://niazitvnews.com/?p=2664 اور آبنائے ہرمز سے متعلق گزشتہ رپورٹ یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2676
ماخذ: خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ذریعے ملے مییل، گلف نیوز اور ڈیلی صباح کی 29 اور 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔