یوم سیاہ: قومی اسمبلی، جی بی اسمبلی کی قرارداد

0

پاکستان نے منگل 27 اکتوبر کو یوم سیاہ مناتے ہوئے کشمیری عوام سے یکجہتی کا بھرپور اظہار کیا، اور قومی اسمبلی سمیت گلگت بلتستان اسمبلی نے اس موقع پر متفقہ قراردادیں منظور کیں۔ ان قراردادوں میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی گئی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ ڈان اخبار کی 28 اکتوبر کی رپورٹ کے مطابق قومی اسمبلی نے 27 اکتوبر 1947 کو سری نگر میں بھارتی فوجیوں کے اترنے کی 79ویں برسی کے موقع پر یہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کی۔

قومی اسمبلی کی قرارداد میں کیا کہا گیا؟

قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی صدارت میں ہوا، جس میں وفاقی وزیر امیر مقام اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رانا محمد قاسم نون نے مشترکہ طور پر قرارداد پیش کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج کا سری نگر میں اترنا جموں و کشمیر پر بھارت کے غیر قانونی قبضے کا آغاز تھا اور کشمیری عوام کی تاریخ کا ایک تاریک ترین باب ہے۔

قرارداد میں اس بات پر زور دیا گیا کہ جموں و کشمیر کا تنازع اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر موجود قدیم ترین غیر حل شدہ بین الاقوامی تنازعات میں سے ایک ہے، اور کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حق خود ارادیت کی توثیق کی گئی جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں میں درج ہے۔ ایوان نے پاکستان کی کشمیری عوام کے ساتھ غیر متزلزل اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت کا اعادہ کیا اور کشمیری مردوں، خواتین اور بچوں کی نسلوں کی ہمت، استقامت اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔

انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش

قرارداد میں مقبوضہ کشمیر میں جاری سنگین اور منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا، جن میں ماورائے عدالت قتل، من مانی گرفتاریاں، حراست، جبری گمشدگیاں، حراستی تشدد، بنیادی آزادیوں پر پابندیاں، املاک کی تباہی اور ضبطی، اور جائز سیاسی اظہار کو دبانا شامل ہیں۔ کشمیری سیاسی رہنماؤں اور کارکنوں کی مسلسل قید اور کشمیری عوام کی جائز سیاسی خواہشات کو خاموش کرنے کی کوششوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی۔

وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ بھارت تقریباً 80 برس سے کشمیری عوام پر ظلم کر رہا ہے اور ہزاروں افراد شہید ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 7 ہزار کشمیری جیلوں میں شہید ہوئے، مگر کشمیری اپنے موقف پر قائم ہیں اور ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹے۔ انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد میں کشمیریوں سے یکجہتی کے لیے ہونے والی تقریب میں ہزاروں سول سوسائٹی ارکان اور طلبہ نے شرکت کی۔

گلگت بلتستان میں ریلیاں اور قرارداد

ڈان کی رپورٹ کے مطابق گلگت بلتستان اسمبلی نے بھی یوم سیاہ کے موقع پر قرارداد منظور کی، جبکہ صوبے بھر میں کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے لیے احتجاجی ریلیاں نکالی گئیں۔ ریلیوں کے شرکا نے کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت اور بھارتی قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

اس موقع پر صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے بھی اپنے پیغامات میں کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 79 برس قبل فوجیوں کی آمد نے ایک المناک دور کا آغاز کیا، جبکہ صدر نے بنیادی آزادیوں پر مسلسل پابندیوں، بڑھتی عسکریت اور گرفتاریوں پر عالمی توجہ کی ضرورت پر زور دیا۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ 5 اگست 2019 کے بھارت کے یکطرفہ اقدامات نے مقامی مشکلات میں اضافہ کیا مگر متنازع حیثیت تبدیل نہیں کر سکے۔

قرارداد کا عالمی پیغام

قرارداد میں عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس تنازع کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لے۔ قرارداد میں حکومت کو ہدایت کی گئی کہ وہ اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں سفارتی کوششیں جاری رکھے۔ قرارداد میں بھارت کی جانب سے آرٹیکل 370 کے خاتمے کو بھی مسترد کیا گیا، جس نے ریاست کے حوالے سے بھارتی پارلیمنٹ کے دائرہ اختیار کو محدود کر رکھا تھا۔

یوم سیاہ ہر سال 27 اکتوبر کو اس لیے منایا جاتا ہے کہ اسی دن 1947 میں بھارتی فوج سری نگر میں اتری تھی، جسے پاکستان بھارت کے غیر قانونی قبضے کا آغاز قرار دیتا ہے۔ اس سال کی قراردادوں میں کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو سراہا گیا اور پاکستان کی جانب سے ان کے حق خود ارادیت کے لیے مکمل حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا گیا۔

مزید تفصیلات کے لیے پڑھیں: پاکستان کا ایران بحران پر انتباہ، سلامتی کونسل میں سفارتکاری پر زور اور بھارت نے پاکستان کو ایس سی او فورم کی دعوت دے دی۔

ماخذ: ڈان، دنیا نیوز، اردو پوائنٹ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *