ڈیانا کیس: حکومت مقدمہ چلائے گی، واپسی کے باوجود

0

لاہور میں آذربائیجانی خاتون ڈیانا کے مبینہ زیادتی کیس میں نیا موڑ آ گیا ہے۔ خاتون کی جانب سے الزامات واپس لینے کی ویڈیو سامنے آنے کے باوجود پنجاب حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ مقدمہ چلتا رہے گا اور قانون اپنا راستہ لے گا۔ صوبائی وزیر اطلاعات عظمہ بخاری نے کہا ہے کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز زیادتی کے مقدمات پر خاص طور پر فکر مند ہیں اور ملزمان کی گرفتاری و قانونی کارروائی تک کوئی نرمی نہیں برتی جائے گی۔

ڈیانا کی ویڈیو میں کیا کہا گیا؟

ڈیانا کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ ان کا پہلا بیان دباؤ کے تحت دیا گیا تھا۔ ویڈیو میں انہوں نے ملزم احمد تنویر کو الزامات سے بری قرار دیتے ہوئے کہا کہ نہ تو انہوں نے زیادتی کی اور نہ ہی ان کا موبائل فون لیا۔ ڈیانا کا کہنا ہے کہ وہ خود عدالت میں جا کر بیان دینا چاہتی تھیں لیکن انہیں بتایا گیا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور انہیں زبردستی پاکستان سے باہر بھیج دیا گیا۔

ڈیانا نے مزید کہا کہ انہیں اپنی مرضی سے اظہار رائے اور فیصلہ کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، یہاں تک کہ ان کا پاسپورٹ بھی لے لیا گیا۔ انہوں نے دیگر دو ملزمان محسن اور عزیر کو بھی معاف کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ اس معاملے کو آگے نہیں بڑھانا چاہتیں۔ ایک اور دستاویز کے مطابق ڈیانا نے آذربائیجان کی وزارت انصاف کے ذریعے باقاعدہ درخواست جمع کرائی ہے جس میں انہوں نے احمد تنویر کے خلاف کوئی شکایت نہ ہونے کا اعلان کیا ہے۔

پنجاب حکومت کا مؤقف کیا ہے؟

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمہ بخاری نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس مقدمے کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے واضح ہدایت دی ہے کہ زیادتی کے مقدمات میں کسی سے رعایت نہ کی جائے اور تمام ملزمان کو گرفتار کر کے قانونی کارروائی مکمل کی جائے۔

پولیس حکام کا مؤقف بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ ڈی آئی جی انویسٹی گیشن ذیشان رضا نے کہا ہے کہ خاتون کا بیان پہلے ہی عدالت میں سیکشن 164 کے تحت ریکارڈ ہو چکا ہے اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیو تفتیش پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ مقدمے کی میرٹ پر تفتیش جاری رکھے گی۔

20 کروڑ روپے کا الزام اور وکیل کی تردید

اس کیس میں ایک اور سنگین الزام بھی سامنے آیا ہے۔ لاہور پولیس کے ذرائع کے مطابق ڈیانا کو ملزم کو بے گناہ قرار دینے والی ویڈیو کے بدلے 2 کروڑ روپے دیے گئے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں اور ایک وکیل نے فون پر خاتون سے رابطہ کر کے انہیں ویڈیو بیان دینے پر آمادہ کیا۔ تاہم ملزم کے وکیل صفدر شاہین نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے اور کہا ہے کہ نہ وہ آذربائیجان گئے اور نہ ہی انہوں نے ڈیانا سے فون پر بات کی۔

یاد رہے کہ ڈیانا نے ستمبر کے آخر میں پاکستان کا کاروباری دورہ کیا تھا اور لاہور کے ڈیفنس علاقے میں کرائے کے فلیٹ میں تین افراد پر زیادتی کا الزام لگایا تھا۔ اس وقت ان کا بیان جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے سیکشن 164 کے تحت ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اب بیانات میں تضاد کے بعد یہ مقدمہ قانونی اور عوامی بحث کا مرکز بن گیا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ بیانات میں تضاد کی اصل وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں اور مقدمہ عدالت میں زیر سماعت ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق سیکشن 164 کے تحت ریکارڈ شدہ بیان کی قانونی حیثیت اہم ہوتی ہے اور عدالت ہی اس بارے میں حتمی فیصلہ کرے گی۔

مزید پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=1776 اور https://niazitvnews.com/?p=1758

ماخذ: ایکسپریس ٹریبیون، پاکستان ٹوڈے، آج نیوز — 24 اکتوبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *