ٹرمپ ایران حملہ: اتوار کی دھمکی یا 3 نومبر تک انتظار؟

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران سے متعلق دو بیانات نے دنیا بھر میں الجھن پیدا کر دی ہے: ہفتے کو انہوں نے ایران پر اتوار، 25 اکتوبر کو حملے کا امکان ظاہر کیا، جبکہ 8 اکتوبر کو اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ میں انہوں نے واضح طور پر لکھا تھا کہ امریکا 3 نومبر کے مڈٹرم الیکشن سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ دونوں بیانات اپنی جگہ موجود ہیں، اور یہی تضاد آج کی سب سے بڑی خبر ہے۔

ٹرمپ نے ہفتے کو کیا کہا؟

انڈین ایکسپریس اور دیگر بین الاقوامی میڈیا کے مطابق ٹرمپ نے ہفتے کو فلوریڈا میں مڈٹرم الیکشن کے لیے قبل از وقت ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران پر حملے کا امکان ہے۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکا ایران پر حملہ کرے گا، تو انہوں نے جواب دیا: “کیا تم واقعی سمجھتے ہو کہ میں تمہیں بتا دوں گا؟ شاید کل… اس کا امکان ہے۔” ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک “خوبصورت، بڑے معاہدے” کا امکان بھی موجود ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ آیا ایران معاہدے کی پاسداری کرے گا۔

ٹرمپ نے اپنے مقصد کو بھی واضح کیا: ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے مستقل طور پر روکنا۔ ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال بی ٹو بمباروں سے کیے گئے حملے مستقل حل کی ضمانت نہیں دیتے، اس لیے “مجھے اسے مستقل بنانا ہے، یہی واحد وجہ ہے کہ میں یہ کر رہا ہوں۔” انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں نے ایران کے لڑاکا طیارے تباہ کر دیے اور 259 بحری جہاز سمندر کی تہہ میں ہیں — یہ دعویٰ ٹرمپ کا اپنا ہے، جس کی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

8 اکتوبر کی پوسٹ میں کیا لکھا تھا؟

8 اکتوبر کو ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا: “ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کر رہے ہیں۔ ہم 3 نومبر کو ہونے والے مڈٹرم الیکشن سے پہلے کسی بھی وقت ایران پر حملہ نہیں کریں گے۔” اسی پوسٹ میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکی بحری ناکہ بندی مکمل طور پر برقرار رہے گی۔ رائٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس اور الجزیرہ سمیت متعدد اداروں نے اس پوسٹ کے الفاظ رپورٹ کیے ہیں، اس لیے اس کا وجود مصدقہ ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھی کہا تھا کہ ان کے خیال میں الیکشن کے فوراً بعد کوئی معاہدہ ہو جائے گا۔ اس پس منظر میں ہفتے کا “شاید کل” والا بیان اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا الیکشن سے پہلے حملہ نہ کرنے کا وعدہ برقرار ہے، یا حالات بدل گئے ہیں۔

ایران کا موقف کیا ہے؟

دوسری طرف ایران نے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے بدلے امریکی بحری ناکہ بندی اٹھانے کی کسی پیشکش کی تردید کر دی ہے۔ ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایسی کوئی نئی پیشکش پاکستانی ثالثوں کو نہیں کی گئی، اور العربیہ کی رپورٹ کو جھوٹ قرار دیا گیا۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا سات روزہ مذاکراتی منصوبہ تاحال میز پر موجود بتایا جاتا ہے۔

ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بندر عباس کے قریب امریکی ڈرون مار گرایا ہے، جبکہ ایرانی پاسداران انقلاب کے کمانڈروں نے خبردار کیا ہے کہ کسی نئے حملے کی صورت میں “قیامت خیز جنگ” ہوگی۔ یہ تمام دعوے ایرانی فریق کے ہیں اور انہیں اسی حیثیت سے دیکھا جانا چاہیے۔

اس کا پاکستان پر کیا اثر پڑے گا؟

پاکستان اس تنازع میں براہ راست فریق نہیں، مگر آبنائے ہرمز سے گزرنے والا تیل اور عالمی منڈی میں قیمتوں کا اتار چڑھاؤ پاکستان کی معیشت، پٹرول کی قیمتوں اور مہنگائی پر اثر انداز ہوتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ ہرمز کی طویل بندش تیل کی قیمت کو 130 ڈالر فی بیرل سے اوپر رکھ سکتی ہے۔ اس لیے واشنگٹن سے آنے والا ہر اشارہ اسلام آباد میں بھی غور سے سنا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کی ایران کو دھمکی: اتوار کو حملہ یا معاہدہ

مجموعی صورتحال یہ ہے کہ ٹرمپ کے دونوں بیانات ایک ساتھ درست ہیں: الیکشن سے پہلے حملہ نہ کرنے کا تحریری وعدہ بھی موجود ہے، اور اتوار کو حملے کا زبانی اشارہ بھی۔ اصل سوال یہ ہے کہ ان میں سے کون سا بیان آئندہ دنوں میں امریکی پالیسی بنے گا — اور اس کا جواب صرف واشنگٹن کے اگلے اقدام سے ملے گا۔

یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز: ایران نے امریکا کو پیشکش کی تردید کر دی

ذرائع: انڈین ایکسپریس، الجزیرہ، رائٹرز، واشنگٹن ایگزامینر — خبر 25 اکتوبر 2026 کو شائع شدہ رپورٹس کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *