اے آئی اور ڈیجیٹلائزیشن ترقی کا راز: شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ قومی ترقی کا راز مصنوعی ذہانت (اے آئی) اور ڈیجیٹلائزیشن میں پوشیدہ ہے، اور ان شعبوں کو تیزی سے اپنانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے 28 اکتوبر 2026 کو اسلام آباد میں معیشت اور گورننس میں اے آئی اور ڈیجیٹلائزیشن کی پیش رفت اور علی بابا گروپ کے ساتھ تعاون کا جائزہ لینے والے اجلاس کی صدارت کی۔
اجلاس میں کیا فیصلے ہوئے؟
وزیراعظم آفس کے مطابق اجلاس میں معیشت اور گورننس میں مصنوعی ذہانت کے استعمال، ڈیجیٹلائزیشن کی پیش رفت اور علی بابا گروپ کے ساتھ جاری تعاون کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ڈیجیٹلائزیشن، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال تجارت، برآمدات، زرعی پیداوار، کاروباری سہولت اور سرکاری خدمات کے معیار کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
علی بابا کے ساتھ تعاون
وزیراعظم نے کہا کہ علی بابا گروپ کے ساتھ شراکت داری کو استعمال کرتے ہوئے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (ایس ایم ایز) کو عالمی منڈیوں تک رسائی دینا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ وزیراعظم نے بتایا کہ چین کے اپنے دورے کے دوران علی بابا کے ہیڈکوارٹر ہانگژو میں مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے۔
کن شعبوں پر توجہ؟
وزیراعظم کے مطابق اے آئی اور ڈیجیٹلائزیشن کو زراعت، تجارت، صحت اور گورننس سمیت اہم شعبوں میں تیزی سے اپنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے نہ صرف سرکاری کاموں میں شفافیت آئے گی بلکہ کاروبار کرنے میں آسانی بھی پیدا ہوگی اور برآمدات بڑھانے میں مدد ملے گی۔
پس منظر
یہ اجلاس ایسے وقت میں ہوا ہے جب حکومت گورننس کو ڈیجیٹل بنانے اور سرکاری ہدایات کی نگرانی کے لیے اے آئی پر مبنی نظام متعارف کرا رہی ہے۔ وزیراعظم پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ ٹیکنالوجی کے بغیر معاشی ترقی ممکن نہیں، اور پاکستان کو عالمی ڈیجیٹل معیشت میں اپنی جگہ بنانی ہوگی۔
مزید پڑھیں:
- پاکستان میں 5G کی بڑی توسیع — 24 شہروں میں 1,700 سے زائد سائٹس فعال: https://niazitvnews.com/?p=1202
- پاکستان کا چاند مشن 2035 تک — پہلا پاکستانی خلا باز 25 نومبر کو چین سے خلا جائے گا: https://niazitvnews.com/?p=1204
ذرائع: وزیراعظم آفس اور دی ایکسپریس ٹریبیون کی بنیاد پر یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے۔