مینگو جٹ: پیڈ منفی مہم کا الزام، فیصل قریشی بول پڑے

0

اداکار فیصل قریشی اور حریم فاروق نے اپنی پنجابی فلم ’مینگو جٹ‘ کے خلاف مبینہ پیڈ منفی مہم پر سخت تشویش ظاہر کی ہے۔ دونوں اداکاروں کا کہنا ہے کہ فلم دیکھے بغیر منظم انداز میں منفی تبصرے پھیلانا نہ صرف ایک فلم بلکہ پہلے سے مشکلات کا شکار پاکستانی سینما انڈسٹری کو نقصان پہنچاتا ہے۔

فیصل قریشی کا انسٹاگرام ویڈیو پیغام

فیصل قریشی نے انسٹاگرام پر ایک ویڈیو میں سوال اٹھایا کہ کچھ لوگ فلم دیکھے بغیر ہی منفی ریویو کیسے دے سکتے ہیں، اور جب یہ کام منظم انداز میں کئی افراد ایک جیسے الفاظ میں کریں تو اس کے پیچھے کیا مقصد ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ فلمی ناقدین فلم دیکھنے کے بعد جمعہ، ہفتہ اور اتوار گزرنے کا انتظار کرتے ہیں، جبکہ مبینہ پیڈ مہم کے تحت تبصرے اگلے ہی دن سے آنا شروع ہو جاتے ہیں۔

اداکار نے کہا کہ ’’منفی چیز جو انہیں کھلائی گئی ہے، وہی وہ دہرا رہے ہیں، لیکن اپنے فائدے پر توجہ دیتے ہوئے سوچیں کہ آپ کتنے لوگوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں؟‘‘ ان کے مطابق کسی فلم کے ہٹ یا فلاپ ہونے کا فیصلہ صرف ناظرین کو کرنا چاہیے، اور ذوق کے اختلاف کو جان بوجھ کر پھیلائی گئی منفی مہم سے الگ سمجھنا چاہیے۔

حریم فاروق نے اسکرین شاٹس شیئر کیے

حریم فاروق، جو ’مینگو جٹ‘ کی پروڈیوسر بھی ہیں اور فلم میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں، نے انسٹاگرام پر اسکرین شاٹس شیئر کیے جن میں مبینہ طور پر فلم کے خلاف منفی پوسٹس کے لیے ادائیگی کی بات سامنے آئی۔ ان اسکرین شاٹس کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی ہے، اور یہ الزامات تاحال اداکاروں کے دعووں کی حد تک ہیں۔

فیصل قریشی نے خبردار کیا کہ ’’کسی بھی فلم یا ڈرامے کے خلاف پیڈ پروپیگنڈا انڈسٹری کو نقصان پہنچاتا ہے، اور ہماری انڈسٹری پہلے ہی بہت چھوٹی ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ سینما جانا اب مہنگا تفریحی فیصلہ ہے، اور گمراہ کن آن لائن بیانیے ناظرین کا اعتماد مزید کمزور کر سکتے ہیں۔

پاکستانی سینما کی مشکلات

پاکستانی فلم انڈسٹری گزشتہ کئی برسوں سے محدود اسکرینوں، مالی دباؤ، بین الاقوامی فلموں سے مقابلے اور ناظرین کی بدلتی عادات جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔ اس پس منظر میں فلم سازوں کا کہنا ہے کہ مقامی فلموں کو سنیما گھروں میں واپس لانے کی کوششوں کو مصنوعی منفی مہموں سے نقصان پہنچتا ہے۔

دوسری جانب ناقدین کا موقف ہے کہ کسی فلم پر تنقید کرنا ناظرین اور ناقدین کا حق ہے، اور ہر منفی رائے کو پیڈ مہم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ فیصل قریشی نے خود بھی تسلیم کیا کہ ہر فلم کو ملے جلے ردعمل ملتے ہیں اور دنیا کی بڑی بڑی فلمیں بھی سب کو پسند نہیں آتیں۔ اصل بحث یہ ہے کہ ایماندارانہ تنقید اور منظم منفی مہم کے درمیان فرق کیسے کیا جائے۔

متعلقہ خبریں: سی آئی ڈی کے خالق بی پی سنگھ کو خراج عقیدت: https://niazitvnews.com/?p=2641 — اور کارتک آریان کی نئی فلم کی خبر: https://niazitvnews.com/?p=2492

ماخذ: یہ خبر دی ٹریبیون، ڈان امیجز، آج نیوز اور 99 نیوز کی 29 اکتوبر 2026 کی رپورٹس پر مبنی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *