سہیل آفریدی: اربوں کی کرپشن کے ثبوت، چارج شیٹ تیار
پشاور سے خبر ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت کی مشیر اطلاعات سمر ہارون بلور نے دعویٰ کیا ہے کہ سابق وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے ثبوت مرتب کیے جا رہے ہیں اور ثبوت مکمل ہوتے ہی ان کے خلاف باقاعدہ چارج شیٹ پیش کر دی جائے گی۔ سمر بلور نے یہ بات جمعے کو پشاور میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ آفریدی تاحال حفاظتی تحویل میں ہیں اور ان کے خلاف جمع ہونے والا مواد چارج شیٹ کی صورت میں ان کے سامنے رکھا جائے گا۔
سمر بلور کا دعویٰ کیا ہے؟
سمر ہارون بلور کے مطابق، اب تک جمع کیا گیا مواد مرتب کیا جا رہا ہے اور یہ مواد ہی آفریدی کے خلاف باقاعدہ الزامات کی بنیاد بنے گا۔ ان کے دعوے کے مطابق، تحقیقات میں آفریدی کے خلاف اربوں روپے کی مبینہ کرپشن کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس عمل میں قانونی نمائندگان بھی شامل ہیں۔ یہ واضح رہے کہ یہ تمام باتیں مشیر اطلاعات کے دعوے کے طور پر سامنے آئی ہیں؛ آفریدی کے خلاف تاحال کوئی چارج شیٹ عدالت میں پیش ہونے کی تصدیق سامنے نہیں آئی ہے، اور ان الزامات پر آفریدی یا پی ٹی آئی کی جانب سے اس پریس کانفرنس کے جواب میں کوئی تفصیلی موقف اس رپورٹ میں شامل نہیں ہے۔
سمر بلور نے مزید دعویٰ کیا کہ اس مبینہ کرپشن سے جڑے معاملے میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے قریبی افراد کے نام بھی سامنے آ رہے ہیں۔ یہ دعویٰ بھی ان کی جانب سے کیا گیا ہے اور اس کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔
آفریدی کہاں ہیں؟ پس منظر
سہیل آفریدی 11 اکتوبر 2026 کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے عوامی منظر سے غائب ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ کے مملکتی وزیر طلال چوہدری اس سے قبل تصدیق کر چکے ہیں کہ آفریدی اور ان کی کابینہ کے بعض ارکان کو حفاظتی تحویل میں لیا گیا تھا، جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بھی کہا تھا کہ آفریدی حفاظتی تحویل میں ہیں اور ان کی گرفتاری کا فیصلہ مشاورتی کونسل کرے گی۔ دوسری جانب پی ٹی آئی نے آج ہی اپنے ایک نوٹیفکیشن میں سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے پر برقرار رکھنے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان ہی متبادل امیدوار نامزد کر سکتے ہیں۔
اس پس منظر میں سمر بلور کی پریس کانفرنس ایک نیا موڑ ہے، کیونکہ اس سے قبل آفریدی کے خلاف سرکاری سطح پر زیادہ تر بات حفاظتی تحویل اور گورنر راج کے تناظر میں ہو رہی تھی۔ اب پہلی بار صوبائی حکومت کی جانب سے ان کے خلاف مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے ثبوت مرتب کرنے کا باضابطہ دعویٰ سامنے آیا ہے۔
پی ٹی آئی کا موقف اور آئندہ مراحل
پی ٹی آئی کی قیادت اب تک آفریدی کی حمایت میں کھڑی نظر آتی ہے۔ چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے جمعرات کو واضح کیا تھا کہ پارٹی آفریدی پر اعتماد برقرار رکھے ہوئے ہے اور ان کی جگہ کسی متبادل پر غور نہیں کیا جا رہا۔ پشاور ہائیکورٹ میں بھی آفریدی سمیت دیگر حراست میں لیے گئے رہنماؤں کی بازیابی سے متعلق درخواست زیر سماعت ہے، اور عدالت نے حکام سے 3 نومبر تک رپورٹ طلب کر رکھی ہے کہ آیا ان رہنماؤں کو باقاعدہ گرفتار کیا گیا ہے، ان کے خلاف کون سے مقدمات ہیں اور وہ کہاں رکھے گئے ہیں۔
آئندہ دنوں میں دو باتیں فیصلہ کن ہوں گی: پہلی، آیا سمر بلور کے دعوے کے مطابق چارج شیٹ واقعی پیش کی جاتی ہے اور اس میں کیا الزامات درج ہوتے ہیں؛ اور دوسری، پشاور ہائیکورٹ میں 3 نومبر کو حکام کی جانب سے کیا جواب جمع کرایا جاتا ہے۔ دونوں ہی پیش رفت صوبے کی سیاست کے رخ پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔
متعلقہ خبریں
پی ٹی آئی کے آفریدی کو وزیر اعلیٰ برقرار رکھنے کے فیصلے کی تفصیل یہاں پڑھیں: پی ٹی آئی نے سہیل آفریدی کو وزیر اعلیٰ برقرار رکھا (https://niazitvnews.com/?p=2670)۔ اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت سے متعلق فیصلے کی خبر یہاں ملاحظہ کریں: بشریٰ بی بی، اسد قیصر کی ضمانت قبل از گرفتاری مسترد (https://niazitvnews.com/?p=2696)۔
ماخذ: اے پی پی کے ذریعے اردو پوائنٹ (30 اکتوبر 2026) اور سماء ٹی وی (30 اکتوبر 2026) کی رپورٹس؛ سمر بلور کے تمام دعوے ان کے بیان کے طور پر پیش کیے گئے ہیں، الزامات کی آزادانہ تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی ہے۔