دہلی میں آج انڈیا بلاک کی ریلی، مارچ کی اجازت نہیں
بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں اپوزیشن اتحاد انڈیا بلاک کی ریلی آج یکم نومبر 2026 کو رام لیلا میدان میں ہوگی، لیکن دہلی پولیس نے کناٹ پلیس سے ریلی تک مارچ کی اجازت نہیں دی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق، رام لیلا میدان میں ریلی کی اجازت بدستور برقرار ہے اور اسے واپس نہیں لیا گیا، تاہم منٹو روڈ اور کناٹ پلیس جنکشن سے شروع ہونے والے مجوزہ مارچ کے لیے کوئی باضابطہ درخواست یا اطلاع موصول نہیں ہوئی ہے۔
پولیس نے کیا واضح کیا
دی کوئنٹ کی رپورٹ کے مطابق، دہلی پولیس نے واضح کیا ہے کہ رام لیلا میدان منتظمین کے لیے 25 اکتوبر سے 3 نومبر تک بک ہے، اور ریلی کی اجازت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے۔ وسطی دہلی اور نئی دہلی کے ڈپٹی کمشنرز آف پولیس نے تصدیق کی ہے کہ انہیں مارچ کے بارے میں کوئی باضابطہ درخواست موصول نہیں ہوئی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال کی نگرانی کی جا رہی ہے، اور کسی بھی جلوس یا مارچ کے لیے الگ سے اجازت درکار ہوگی۔
یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی جب کانگریس کے سینئر رہنما راہل گاندھی نے ایک آن لائن سیشن کے دوران اعلان کیا تھا کہ مارچ دوپہر کو منٹو روڈ اور کناٹ پلیس کے علاقے سے شروع ہوگا اور رام لیلا میدان پر ختم ہوگا۔ پولیس حکام کے مطابق، اس اعلان کے باوجود مارچ کے لیے کوئی درخواست جمع نہیں کرائی گئی تھی، اس لیے صرف رام لیلا میدان کی ریلی کو سرکاری منظوری حاصل ہے۔
ریلی کیوں ہو رہی ہے
رپورٹس کے مطابق، انڈیا بلاک کی یہ ریلی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف “چلو دلی” مہم کا حصہ ہے، جس میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) اور مبینہ بے ضابطگیوں پر احتجاج کیا جا رہا ہے۔ اپوزیشن کا موقف ہے کہ نظرثانی کے عمل میں شفافیت کا فقدان ہے، جبکہ الیکشن کمیشن اپنے عمل کو معمول کا انتظامی اقدام قرار دیتا رہا ہے۔
نیوز 9 کی لائیو رپورٹ کے مطابق، اس احتجاج کا پس منظر یہ بھی ہے کہ الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور ویویک جوشی نے ایس آئی آر سے متعلق فیصلوں پر اعتراض کیا تھا، جس کی خبر سامنے آنے کے بعد سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا۔ اپوزیشن کی جانب سے “عوامی مواخذے” کے نام سے ایک تقریب بھی منعقد کی جانی تھی، جسے بارش کے باعث 31 اکتوبر تک ملتوی کر دیا گیا تھا۔
سیکیورٹی اور نگرانی
دہلی پولیس نے کہا ہے کہ ریلی کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے صورتحال پر نظر رکھی جا رہی ہے، اور ضرورت پڑنے پر مناسب اقدامات کیے جائیں گے۔ منتظمین اور شرکا سے کہا گیا ہے کہ وہ صرف منظور شدہ مقام پر جمع ہوں اور ایسا کوئی جلوس نہ نکالیں جس کی اجازت نہ لی گئی ہو۔
یہ ریلی ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب بھارت میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی اور انتخابی عمل کی شفافیت پر سیاسی بحث تیز ہو چکی ہے، اور اپوزیشن جماعتیں اس معاملے کو عوامی سطح پر اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ریلی کے بعد اپوزیشن کی آئندہ حکمت عملی اور الیکشن کمیشن کا ردعمل سیاسی منظرنامے کے لیے اہم ہوگا۔
مزید تفصیل کے لیے ہماری گزشتہ خبریں فرانس مظاہرے: 3 لاکھ 20 ہزار شرکا، منگل سے اسکول بندش کا اعلان اور ایران امریکہ مسودہ: آبنائے ہرمز 7 دن بھی پڑھیں۔
ماخذ: دی کوئنٹ، نیوز 9 اور ہندوستان ٹائمز، 31 اکتوبر 2026۔