پاکستان جانے والا قطری ایل این جی ٹینکر خلیج میں نشانہ
پاکستان کے لیے قطری گیس لے جانے والا ایک بڑا ایل این جی ٹینکر خلیج میں حملے کا نشانہ بن گیا ہے۔ قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اور جہاز کی مالک کمپنی کے مطابق مارشل آئی لینڈز کے پرچم والا ٹینکر المیڈا جمعے کی شام آبنائے ہرمز کے قریب نامعلوم اشیا سے ٹکرایا، تاہم عملے کے تمام 25 ارکان محفوظ رہے اور ماحول کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
حملے کی تصدیق یکم نومبر کو ہوئی، جب قطر گیس ٹرانسپورٹ کمپنی نکلیٹ نے بیان جاری کیا کہ جہاز محفوظ حالت میں اور فعال ہے، جبکہ نقصان کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ جہاز کے رخ موڑ کر واپس خلیج کی جانب جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
حملہ کیسے ہوا اور عملہ کیسا ہے
ذرائع کے مطابق المیڈا قطری ایل این جی لے کر آبنائے ہرمز کی طرف بڑھ رہا تھا جب اسے نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی وزیر برائے جہاز رانی سربانند سونووال نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ جہاز پر پروجیکٹائل حملہ ہوا، مگر عملے کے تمام 25 ارکان، جن میں 6 بھارتی شہری بھی شامل ہیں، مکمل طور پر محفوظ ہیں۔
نکلیٹ نے اپنے بیان میں کہا کہ جہاز کے عملے میں سے کوئی زخمی نہیں ہوا اور واقعے سے ماحولیاتی نقصان بھی رپورٹ نہیں ہوا۔ کمپنی کے مطابق جہاز اس وقت محفوظ حالت میں ہے اور اس کا تکنیکی جائزہ جاری ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ یہ کارگو پاکستان تک اپنا سفر دوبارہ شروع کرے گا یا نہیں۔
ایران سے کلیئرنس کے باوجود حملہ
اس واقعے کا سب سے حیران کن پہلو یہ ہے کہ ذرائع کے مطابق پاکستان نے اس ٹینکر کے محفوظ گزر کے لیے ایرانی حکام سے پہلے بات چیت کی تھی، اور حملے سے صرف چند گھنٹے قبل ایران نے اس کے گزرنے کی منظوری دی تھی۔ خبر رساں ادارے بلومبرگ کے حوالے سے بتایا گیا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران اسی طریقے سے کئی دیگر قطری ایل این جی جہاز بحفاظت خلیج عمان تک پہنچ چکے تھے۔
حملہ آور کی شناخت اور حملے میں استعمال ہونے والی چیز کی درست نوعیت ابھی معلوم نہیں ہو سکی، اس لیے الزام لگانا قبل از وقت ہوگا۔ قطر کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا رہا ہے۔
قطر اور سعودی عرب کی مذمت
قطر کی وزارت خارجہ نے یکم نومبر کو جاری بیان میں حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بحری جہاز رانی کی سلامتی اور عالمی توانائی کی فراہمی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ دوحہ نے خبردار کیا کہ اس طرح کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات کے علاقائی نتائج ہوں گے، اور قطر نے بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے اثاثوں، جہازوں اور عملے کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کا حق محفوظ رکھا ہے۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے بھی یکم نومبر کو حملے کی مذمت کی اور جہاز رانی اور عالمی توانائی کی فراہمی کے تحفظ کے لیے فوری عالمی اقدام کا مطالبہ کیا۔ سعودی بیان میں بحری سلامتی کو لاحق خطرات کو مسترد کرنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
پاکستان کی سردیوں کی گیس پر کیا اثر پڑے گا
یہ واقعہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب سردیوں کی آمد کے ساتھ پاکستان میں گیس کی طلب بڑھنے والی ہے۔ رپورٹوں کے مطابق اگر یہ کارگو پاکستان نہ پہنچ سکا تو متبادل کارگو کی خریداری پہلے سے کہیں زیادہ مہنگی پڑ سکتی ہے، جس سے سردیوں میں گیس کی فراہمی پر دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
آبنائے ہرمز دنیا کے اہم ترین توانائی راستوں میں سے ایک ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل تیل اور بڑی مقدار میں ایل این جی گزرتی ہے۔ اس راستے پر کسی بھی حملے سے عالمی توانائی منڈی میں تشویش پھیل جاتی ہے، اور یہ واقعہ بھی اسی سلسلے کی تازہ کڑی ہے۔
مزید پڑھیں: خلیج میں سعودی عرب کے 3 ڈرون مار گرانے کی خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3144
خلیج میں جہازوں پر حملوں کے پہلے دعووں کی تفصیل یہاں دیکھیں: https://niazitvnews.com/?p=1356
ماخذ: الجزیرہ، عرب نیوز، تھرسڈے ٹائمز، سیاسات، یکم نومبر 2026 کی رپورٹیں۔