چوہدری نثار: عمران کی رہائی تک کوئی پارٹی نہیں
سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اعلان کیا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی رہائی تک وہ کسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہوں گے۔ انہوں نے عمران خان کو اپنا قریبی ذاتی دوست قرار دیا اور کہا کہ ان کی غیر موجودگی میں وہ کوئی جلد بازی والا سیاسی فیصلہ نہیں کریں گے۔ یہ بات انہوں نے 2 نومبر 2026 کو ٹیکسلا میں اپنے حلقے کے وفود اور معزز شخصیات سے خطاب کے دوران کہی۔
چوہدری نثار نے کیا کہا؟
چوہدری نثار کے ترجمان شیخ ذیشان سعید کے مطابق، چکری ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں سابق وزیر داخلہ نے ملکی سیاسی صورتحال، بلدیاتی انتخابات اور دیگر سیاسی پیش رفت پر گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان اس وقت جیل میں مشکل حالات کا سامنا کر رہے ہیں اور اللہ ان کی مشکلات آسان کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی رہائی تک ان کا کسی سیاسی جماعت میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کے مستقبل کے سیاسی فیصلے کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری ہیں۔ لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کی بہنوں کی نظربندی کے معاملے پر بھی سماعت جاری ہے، جس کی تفصیل لاہور ہائی کورٹ میں عمران خان کی بہنوں کی نظربندی کیس میں پڑھی جا سکتی ہے۔
شہباز شریف سے تیس سالہ دوستی کا ذکر
چوہدری نثار نے وزیر اعظم شہباز شریف سے اپنی دیرینہ ذاتی دوستی کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ شہباز شریف گزشتہ تیس برس سے ان کے دوست ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر وہ کسی جماعت میں شامل ہونا چاہیں تو ان کے لیے تمام آپشن کھلے ہیں، لیکن وہ جلد بازی میں کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔
انہوں نے اپنے حامیوں کو پیغام دیا کہ ان کا سیاسی مستقبل ان کے حلقے کے عوام سے مشاورت کے بعد طے ہوگا، جن کا اعتماد اور عزت ان کے لیے سب سے اہم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے سیاسی فیصلے اقتدار یا پارلیمانی عہدوں کے حصول سے نہیں چلتے۔
عہدوں کی پیشکشیں ٹھکرانے کا دعویٰ
سابق وزیر داخلہ نے کہا کہ انہوں نے ماضی میں اہم حکومتی عہدوں کی پیشکشیں اس لیے ٹھکرا دیں کہ وہ اپنے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ انہوں نے اپنی وزارت داخلہ کے دور میں استعفیٰ دیا تھا اور وہ عہدے کے لیے اپنی خودداری اور سیاسی عقائد قربان کرنے کو کبھی تیار نہیں رہے۔
یہ موقف ان کی سیاسی شناخت کا حصہ رہا ہے۔ وہ طویل عرصے تک مسلم لیگ ن سے وابستہ رہے اور بعد میں آزاد حیثیت سے سیاست کرتے رہے۔ ان کے حالیہ بیان کو پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کے تناظر میں بھی دیکھا جا رہا ہے، جہاں پارٹی رہنماؤں کے درمیان عمران خان کی رہائی کی کوششوں پر بحث جاری ہے۔ اس حوالے سے پی ٹی آئی رہنما سیف کے اچکزئی اور راجہ ناصر پر الزامات کی خبر بھی پڑھیں۔
بلدیاتی انتخابات پر حکومت پر تنقید
بلدیاتی انتخابات کے معاملے پر چوہدری نثار نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اس معاملے میں غیر فیصلہ کن نظر آتی ہے اور ابھی تک اس نے کوئی حتمی موقف اختیار نہیں کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے کے بارے میں تذبذب کا شکار دکھائی دیتی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق چوہدری نثار کا یہ بیان ان کے حلقے کی سیاست کے لیے اہم ہے، کیونکہ بلدیاتی انتخابات میں ان کی حمایت کسی بھی امیدوار کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ تاہم انہوں نے کسی جماعت یا امیدوار کی حمایت کا اعلان نہیں کیا اور فیصلہ عوامی مشاورت سے مشروط کر دیا۔
ماخذ: ڈان، 2 نومبر 2026۔