چار پی ٹی آئی رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور
اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پاکستان تحریک انصاف کے چار رہنماؤں کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں منظور کر لی ہیں۔ یہ فیصلہ 26 نومبر کے احتجاج اور سپریم کورٹ کے باہر مظاہرے سے متعلق مقدمات میں سامنے آیا ہے۔ عدالت نے چاروں رہنماؤں کو پانچ پانچ ہزار روپے کے مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
کن رہنماؤں کو ریلیف ملا
عدالت کے فیصلے کے مطابق سابق اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو نو مقدمات میں، عاطف خان کو چار مقدمات میں، لطیف کھوسہ کو تین مقدمات میں اور فیصل امین گنڈاپور کو چھ مقدمات میں ضمانت قبل از گرفتاری دی گئی ہے۔ یہ چاروں رہنما اس سے قبل بھی عدالت سے رجوع کر چکے تھے، تاہم سماعتوں میں بار بار عدم حاضری کے باعث ان کی پہلی درخواستیں خارج کر دی گئی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے نئی درخواستیں دائر کیں جن پر وکلاء کی سماعت کے بعد عدالت نے یہ ریلیف دیا۔
اس فیصلے کو پی ٹی آئی کے قانونی محاذ پر ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ 26 نومبر کے احتجاج سے جڑے مقدمات میں پارٹی کے کئی رہنما پہلے ہی عدالتی کارروائیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔ ضمانت قبل از گرفتاری کا مطلب یہ ہے کہ متعلقہ مقدمات میں ان رہنماؤں کو فوری گرفتاری سے تحفظ مل گیا ہے، تاہم مقدمات کی سماعت جاری رہے گی اور انہیں عدالت میں پیش ہونا ہوگا۔
عمران خان سے ملاقات کی درخواست پر سماعت 5 نومبر کو
اسی سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ 5 نومبر کو نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کی اس درخواست پر سماعت کرے گی جس میں اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات کی اجازت مانگی گئی ہے۔ درخواست نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے چیئرمین محمود باقی مولوی، سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل، بیرسٹر محمد علی سیف اور فواد احمد کی جانب سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزاروں کا موقف ہے کہ جیل انتظامیہ نے 5 اگست 2023 سے قید جوڑے سے ملاقاتوں پر غیر قانونی اور من مانی پابندی لگا رکھی ہے۔ ان کے مطابق ملاقات سے انکار آئین کے آرٹیکل 9 اور 14 کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق اور جیل قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قیدیوں کے اہل خانہ کو ایک عرصے سے رسائی نہیں ملی، جس سے ان کی صحت اور سلامتی کے بارے میں تشویش فطری ہے۔
درخواست میں پاکستان پرزن رولز 1978 کا حوالہ بھی دیا گیا ہے، جن کے تحت ہر سزا یافتہ قیدی کو پندرہ دن میں ایک بار اپنے عزیزوں، دوستوں اور قانونی مشیروں سے ملاقات کا موقع ملنا چاہیے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ وہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت دے کہ کمیٹی کے وفد کی عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کرائی جائے اور اس کے لیے مناسب وقت مقرر کیا جائے۔
پس منظر اور اگلے مراحل
یاد رہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کا معاملہ گزشتہ روز بھی خبروں میں رہا، جب ان کے وکیل کی ان سے ملاقات کی خبر سامنے آئی تھی۔ اس بارے میں تفصیل ہماری گزشتہ رپورٹ میں پڑھی جا سکتی ہے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے اندرونی اختلافات کی تردید اور اتحاد کے اعلان کے بارے میں ہماری رپورٹ بھی اس پس منظر کو سمجھنے میں مددگار ہے۔
اب سب کی نظریں 5 نومبر کی سماعت پر ہیں، جہاں عدالت یہ طے کرے گی کہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے وفد کو اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت ملتی ہے یا نہیں۔ دوسری جانب ضمانت قبل از گرفتاری حاصل کرنے والے چاروں رہنماؤں کو آئندہ سماعتوں میں اپنی حاضری یقینی بنانا ہوگی، ورنہ عدالت اپنا ریلیف واپس بھی لے سکتی ہے۔
ماخذ: ڈان (3 نومبر 2026) اور بزنس ریکارڈر (3 نومبر 2026) کی رپورٹس کی بنیاد پر۔