ایران کا دعویٰ: آبنائے ہرمز کے قریب 3 امریکی ڈرون مار گرائے
ایران کی پاسداران انقلاب کی ایرو اسپیس فورس نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز کے قریب 3 امریکی ڈرون مار گرائے ہیں۔ ایرانی دعوے کے مطابق ان میں سے 2 ایم کیو ایم 170 جاسوسی ڈرون جزیرہ قشم کے جنوب میں الیکٹرانک وارفیئر کے ذریعے گرائے گئے، جبکہ ایک ایم کیو 9 ڈرون آبنائے ہرمز کے مشرق میں فضائی دفاعی نظام سے تباہ کیا گیا۔ امریکا کی جانب سے اس دعوے کی فوری تصدیق یا تردید سامنے نہیں آئی ہے۔
ایرانی دعوے کی تفصیل
ایرانی سرکاری خبر رساں اداروں اور نیم سرکاری تسنیم نیوز کے مطابق پاسداران انقلاب نے پیر کی رات اعلان کیا کہ اس کی ایرو اسپیس فورس نے قشم جزیرے کے جنوب میں 2 امریکی ایم کیو ایم 170 جاسوسی ڈرون زمین پر اتار لیے۔ ایرانی دعوے کے مطابق اس طرح اس قسم کے 4 امریکی ڈرون ایران کے قبضے میں آ چکے ہیں۔ علیحدہ بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز کے مشرق میں ایک ایم کیو 9 ڈرون کو نئے فضائی دفاعی نظام کے ذریعے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا، جسے ایرانی بیان میں 55 واں ایم کیو 9 ڈرون قرار دیا گیا ہے۔
ڈان کی 3 نومبر کی خبر کے مطابق ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے بھی قشم کے جنوب میں 2 ڈرون تباہ ہونے کی خبر دی ہے۔ دوسری جانب دی ویک اور ہندو بزنس لائن کی رپورٹس کے مطابق قشم جزیرے اور بندر لنگے میں متعدد دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں، اور ایرانی خبر رساں ادارے ارنا نے بتایا کہ قشم میں 5 دھماکے ہوئے۔ ان دھماکوں کی وجہ یا کسی جانی نقصان کے بارے میں فوری طور پر سرکاری معلومات سامنے نہیں آئیں۔
امریکا اور ایران کشیدگی کا پس منظر
یہ دعویٰ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ اس سے قبل وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکا نے خفیہ طور پر ایران کے جزیرہ قشم پر حملہ کیا تھا، جس کی تفصیل ہماری اس خبر میں موجود ہے: https://niazitvnews.com/?p=3430 اسی دوران امریکا اور ایران کے درمیان دوحہ میں مذاکرات بھی جاری ہیں، جن میں پیش رفت کی خبریں سامنے آ رہی ہیں: https://niazitvnews.com/?p=3370
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی ڈرون ان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہے تھے، جبکہ امریکی حکام نے ماضی میں اس نوعیت کے ایرانی دعووں کو مسترد کیا ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق امریکی فوج نے گزشتہ ہفتے کے ایک واقعے پر تہران کے بیان کو مسترد کر دیا تھا۔ اس لیے اس تازہ دعوے کو بھی ایران کے اپنے دعوے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے، جب تک کہ آزاد ذرائع سے اس کی تصدیق نہ ہو جائے۔
آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم آبی گزرگاہوں میں سے ایک ہے، جہاں سے عالمی تیل کی تجارت کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اس علاقے میں کوئی بھی فوجی کشیدگی عالمی منڈیوں پر فوری اثر ڈال سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قشم جزیرے اور آبنائے ہرمز کے قریب ہونے والی ہر سرگرمی پر دنیا بھر کی نظر رہتی ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکا میں مڈٹرم انتخابات کے موقع پر ایران کے معاملے پر دونوں ممالک کے بیانات میں شدت آ گئی ہے۔ ایک طرف مذاکرات کی کوششیں جاری ہیں تو دوسری طرف فوجی دعوے اور خفیہ حملوں کی خبریں بھی سامنے آ رہی ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو گا کہ یہ کشیدگی مذاکرات کی طرف بڑھتی ہے یا مزید تصادم کی طرف۔
ماخذ: ڈان، اکنامک ٹائمز، تسنیم نیوز، دی ویک اور ہندو بزنس لائن کی 3 نومبر 2026 کی رپورٹس۔ ایرانی دعوے آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں ہیں۔