فضل الرحمان کا دعویٰ: فاٹا انضمام واپس لینے پر غور

0

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دعویٰ کیا ہے کہ وفاقی حکومت سابق فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کو واپس لینے پر غور کر رہی ہے۔ انہوں نے پیر 2 نومبر کو پشاور میں اپنی جماعت کے ڈیجیٹل میڈیا ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطح کے حکومتی افراد نے انہیں براہ راست بتایا ہے کہ انضمام کا فیصلہ غلطی تھی۔ یہ بیان مولانا فضل الرحمان کا اپنا دعویٰ ہے، وفاقی حکومت کی جانب سے اس کی فوری تصدیق سامنے نہیں آئی ہے۔

فضل الرحمان نے کیا کہا

ڈان اور ٹریبیون کی 3 نومبر کی رپورٹس کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ سابق فاٹا کو بدقسمتی سے تجربہ گاہ بنا دیا گیا ہے۔ ان کے بقول انضمام کو تقریباً ایک دہائی گزر چکی ہے، مگر وہاں آباد علاقوں والا انتظامی نظام ابھی تک قائم نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ علاقے میں ابھی تک پٹواری کا نظام موجود نہیں، زمینوں کی وراثتی تقسیم کے تنازعات حل نہیں ہوئے، اور پولیس کا نظام بھی مکمل طور پر قائم نہیں ہو سکا۔

مولانا فضل الرحمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انضمام کے وقت انہوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ حالات سازگار نہیں ہیں۔ ان کے مطابق آج اصل مسئلہ سیاسی یا آئینی نہیں بلکہ قبائلی علاقوں کے وسائل اور معیشت ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علاقے کے قدرتی وسائل سے متعلق تمام معاہدے عوام کے سامنے لائے جائیں، اور ان کی جماعت کو معدنی وسائل کی تلاش اور ترقی پر کوئی اعتراض نہیں، بشرطیکہ شفافیت ہو۔

گورنر راج اور ایمرجنسی کا ذکر

اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر بھی سوال اٹھائے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات دہشت گردی کے جواز پر کیے گئے، مگر ان اقدامات کے بعد دہشت گردی کا بیانیہ کم ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ 11 اکتوبر 2026 کو صوبے میں گورنر راج اور 12 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ کی گئی، جس کے تحت صوبائی حکومت کے اختیارات گورنر کے پاس چلے گئے اور ایک علیحدہ ایریا ڈویلپمنٹ سیکریٹریٹ قائم کیا گیا۔

مولانا نے یہ بھی کہا کہ ان کے خلاف کردار کشی کی مہم چلائی گئی، جبکہ قبائلی عوام کے خدشات کا جواب دلائل سے دیا جانا چاہیے تھا، الزامات سے نہیں۔ ان کے بقول سیاسی اور انتظامی تبدیلیاں آئینی طریقے سے ہونی چاہئیں، اور اختلافات آئینی دائرے میں حل ہونے چاہئیں۔ خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال پر ہماری ایک اور خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=3390

انضمام کا پس منظر

سابق فاٹا کو 2018 میں 25 ویں آئینی ترمیم کے ذریعے خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا تھا، جس سے اس کی الگ وفاقی حیثیت ختم ہو گئی تھی۔ اس وقت کہا گیا تھا کہ انضمام سے قبائلی علاقوں میں ترقی، عدالتی نظام اور بنیادی سہولتیں پہنچیں گی۔ تاہم مولانا فضل الرحمان سمیت بعض سیاسی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ یہ وعدے پورے نہیں ہوئے۔

دوسری جانب حکومت کے حامیوں کا موقف رہا ہے کہ انضمام ایک تاریخی قدم تھا جس سے قبائلی عوام کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی اور ترقیاتی فنڈز تک رسائی ملی۔ گورنر راج کے خاتمے کے مطالبے سے متعلق خبر یہاں پڑھیں: https://niazitvnews.com/?p=2811 مولانا فضل الرحمان کے تازہ دعوے کے بعد یہ بحث دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے کہ قبائلی اضلاع کا مستقبل کیا ہو گا، اور آیا وفاقی حکومت واقعی انضمام واپس لینے پر غور کر رہی ہے یا یہ صرف سیاسی بیان بازی ہے۔

ماخذ: ڈان، دی ایکسپریس ٹریبیون، صباح نیوز اور آج نیوز کی 2 تا 3 نومبر 2026 کی رپورٹس۔ انضمام واپسی کا دعویٰ مولانا فضل الرحمان سے منسوب ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *