اقوام متحدہ میں پاکستان کی قرارداد، بھارت اسرائیل مخالف

0

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی پہلی کمیٹی نے پاکستان اور بیلاروس کی پیش کردہ روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول سے متعلق قرارداد 180 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور کر لی ہے، جب کہ صرف بھارت اور اسرائیل نے اس کی مخالفت کی اور کسی رکن نے ووٹنگ میں حصہ لینے سے گریز نہیں کیا۔ یہ قرارداد پیر 2 نومبر 2026 کو کمیٹی میں منظور ہوئی اور اس کی خبر 3 نومبر کو سامنے آئی۔

قرارداد میں کیا کہا گیا ہے

قرارداد کا مکمل عنوان “جنرل اینڈ کمپلیٹ ڈس آرمامنٹ: کنونشنل آرمز کنٹرول ایٹ دی ریجنل اینڈ سب ریجنل لیولز” ہے۔ اس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ روایتی ہتھیاروں کا کنٹرول بنیادی طور پر علاقائی اور ذیلی علاقائی سطح پر آگے بڑھایا جانا چاہیے، کیونکہ سرد جنگ کے بعد کے دور میں امن و سلامتی کے لیے زیادہ تر خطرات اسی خطے یا ذیلی خطے کے اندر موجود ملکوں کے درمیان پیدا ہوتے ہیں۔

قرارداد کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ اس پر فوری طور پر کوئی پابند معاہدہ نافذ ہو گیا ہے۔ پہلی کمیٹی کی منظور شدہ مسودہ قرارداد عام طور پر جنرل اسمبلی کے مکمل اجلاس کے سامنے جاتی ہے، جہاں اس پر حتمی ووٹنگ ہوتی ہے۔ تاہم 180 کے مقابلے میں 2 کا نتیجہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ قرارداد کے بنیادی نقطہ نظر کو عالمی سطح پر وسیع حمایت حاصل ہے۔

بھارت نے مخالفت کیوں کی

بھارت نے قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ملکوں کی سلامتی سے متعلق خدشات علاقائی سرحدوں تک محدود نہیں ہوتے۔ اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل مشن کے فرسٹ سیکریٹری انمول شیر بیڈی نے ووٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ روایتی ہتھیاروں کا کنٹرول ایک عالمی مسئلہ ہے اور اسے بنیادی طور پر علاقائی یا ذیلی علاقائی تناظر میں آگے بڑھانے کے بارے میں بھارت مکمل طور پر قائل نہیں ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ بھارت نے یہ ووٹ اپنے دیرینہ موقف کے مطابق دیا ہے۔ بھارت نے مجموعی قرارداد کے علاوہ ایک الگ پیراگراف کی بھی مخالفت کی جس میں جنوبی ایشیا کے تناظر میں روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول کی تجاویز کا حوالہ دیا گیا تھا۔ اسرائیل نے بھی قرارداد کی مخالفت کی، تاہم اس کی ووٹ کی تفصیلی وضاحت خبروں میں نمایاں نہیں کی گئی۔

180 کے مقابلے میں 2 کا کیا مطلب ہے

اقوام متحدہ کے 193 رکن ملکوں میں سے 180 نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، 2 نے مخالفت کی اور کوئی رکن غیر حاضر یا غیر جانبدار نہیں رہا۔ یہ اعداد و شمار اس قرارداد کی غیر معمولی حمایت کو ظاہر کرتے ہیں، خاص طور پر اس لیے کہ سلامتی اور ہتھیاروں کے موضوعات پر اکثر ملکوں کے درمیان اختلافات پائے جاتے ہیں۔

پاکستان کے لیے یہ ایک سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، کیونکہ قرارداد پاکستان اور بیلاروس کی مشترکہ پیشکش تھی۔ دوسری جانب بھارت کی مخالفت اس کے اس موقف کی عکاسی کرتی ہے کہ سلامتی کے مسائل کو صرف علاقائی دائرے میں قید نہیں کیا جا سکتا، بلکہ انہیں عالمی سطح پر دیکھا جانا چاہیے۔

پس منظر اور آگے کیا ہوگا

روایتی ہتھیاروں کے کنٹرول پر بحث کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ پاکستان کی پیش کردہ قرارداد کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ زیادہ تر تنازعات پڑوسی ملکوں کے درمیان پیدا ہوتے ہیں، اس لیے اعتماد سازی اور ہتھیاروں کے کنٹرول کے اقدامات علاقائی سطح پر زیادہ موثر ہو سکتے ہیں۔ بھارت کا جوابی استدلال یہ ہے کہ جدید ہتھیاروں، ٹیکنالوجی اور سلامتی کے خطرات کی نوعیت عالمی ہو چکی ہے، اس لیے انہیں صرف علاقائی فریم ورک میں حل کرنا کافی نہیں ہوگا۔

اب سب کی نظریں جنرل اسمبلی کے مکمل اجلاس پر ہوں گی، جہاں قرارداد پر حتمی فیصلہ متوقع ہے۔ اگر وہاں بھی اسی طرح کی حمایت برقرار رہی تو یہ قرارداد پاکستان کی سفارتی کوششوں کی ایک اہم مثال بن جائے گی، چاہے اس کے عملی اثرات بتدریج ہی سامنے آئیں۔

مزید پڑھیں: ایران کا دعویٰ: آبنائے ہرمز کے قریب 3 امریکی ڈرون مار گرائے (https://niazitvnews.com/?p=3452) اور پاکستان نے ایس سی او بینک کنسورشیم کی صدارت سنبھال لی (https://niazitvnews.com/?p=3412)۔

ذرائع: دی ہندو، دی ٹربیون انڈیا (پی ٹی آئی)، اکنامک ٹائمز، انڈیا ٹی وی اور ڈیکن ہیرالڈ کی 3 نومبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *