پی ٹی آئی کا وفاق سے مذاکرات کا فیصلہ، گورنر راج ختم
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی خیبر پختونخوا پارلیمانی پارٹی نے وفاقی حکومت سے مذاکرات کی حمایت کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے ذریعے صوبے میں نافذ گورنر راج اور ایمرجنسی کے خاتمے کی راہ ہموار کی جائے، تاکہ پی ٹی آئی کا مینڈیٹ بحال ہو سکے۔ یہ فیصلہ جمعے کو آن لائن ہونے والے پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں کیا گیا، جس میں 40 سے زائد ارکان شریک ہوئے۔
جیو نیوز کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور نور الحق قادری بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں ارکان نے اتفاق کیا کہ وفاقی حکومت سے بات چیت کے ذریعے سیاسی مسائل حل کیے جائیں اور گورنر راج و ایمرجنسی کے خاتمے کا راستہ نکالا جائے۔
اجلاس میں کیا طے پایا
ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے اس موقف کی حمایت کی کہ مذاکرات سے گورنر راج اور ایمرجنسی کا خاتمہ ممکن ہوگا اور اس کے بعد پی ٹی آئی کا صوبائی مینڈیٹ بحال ہو سکے گا۔ ارکان کا یہ بھی کہنا تھا کہ موجودہ انتظام نے صوبے میں سیاسی اور انتظامی خلا پیدا کر دیا ہے، اس لیے منتخب صوبائی سیٹ اپ کی بحالی ضروری ہے۔
آج انگلش کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں یہ تجویز بھی سامنے آئی کہ علی امین گنڈاپور کو مذاکراتی ٹیم میں شامل کیا جائے، تاکہ باہمی مشاورت سے بات چیت آگے بڑھ سکے۔ پارلیمانی پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد کارکنوں کو سڑکوں پر نہ بلانے کے فیصلے کی بھی توثیق کی۔
گوہر خان اور شوکت یوسفزئی کا موقف
بیرسٹر گوہر علی خان نے اجلاس میں بتایا کہ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے ارکان کی اکثریت بھی وفاقی حکومت سے مذاکرات کی حامی ہے۔ ان کے مطابق وفاقی سطح پر بھی مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے۔
پی ٹی آئی کے صوبائی سیکریٹری اطلاعات شوکت یوسفزئی نے بھی مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کشیدگی کم کرے اور گورنر راج و ایمرجنسی واپس لے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم مذاکرات کے حق میں ہیں اور وفاق کو تناؤ کم کرنا چاہیے۔
گورنر راج کا پس منظر
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی 11 اکتوبر کو نافذ کی گئی تھی، جس کی بعد میں پارلیمنٹ نے بھی توثیق کی۔ وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ یہ غیر معمولی اقدامات امن و امان کی بگڑتی صورتحال اور انسداد دہشت گردی میں تعاون کے خدشات کے باعث ضروری تھے۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات غیر آئینی اور سیاسی بنیادوں پر کیے گئے ہیں۔ پارٹی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کو عدالت میں بھی چیلنج کر رکھا ہے اور پارلیمنٹ میں بھی یہ معاملہ اٹھانے کا اعلان کیا ہے۔ پارلیمانی پارٹی کے تازہ فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پارٹی اب قانونی اور پارلیمانی جدوجہد کے ساتھ ساتھ مذاکرات کا راستہ بھی اختیار کرنا چاہتی ہے۔
انتخابی اصلاحات کمیٹی کا معاملہ زیر بحث نہیں آیا
ذرائع کے مطابق اجلاس میں مجوزہ انتخابی اصلاحات کمیٹی یا اپوزیشن کو اس میں شمولیت کی پیپلز پارٹی کی پیشکش پر خاص طور پر بات نہیں ہوئی، کیونکہ یہ معاملہ وفاقی پارلیمانی سطح پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اس اجلاس کی توجہ صرف خیبر پختونخوا کے بحران اور اس کے حل پر مرکوز تھی۔
آگے کیا ہوگا
پارلیمانی پارٹی کے فیصلے کے بعد اب نظر اس بات پر ہے کہ وفاقی حکومت اس پیشکش پر کیا جواب دیتی ہے اور مذاکرات کا کوئی باقاعدہ طریقہ کار طے پاتا ہے یا نہیں۔ پی ٹی آئی نے سینئر رہنماؤں کو وفاقی حکومت سے صوبائی حکومت کی بحالی اور دیگر زیر التوا مسائل پر بات چیت کا ٹاسک دینے کا فیصلہ بھی کیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو یہ خیبر پختونخوا میں جاری سیاسی کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہو سکتا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار دونوں فریقوں کے رویے اور مذاکرات کے ایجنڈے پر ہوگا۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی: اربوں کی کرپشن کے ثبوت، چارج شیٹ تیار (https://niazitvnews.com/?p=2785) اور نورین نیازی کی صحت پر پی ٹی آئی کا تشویش کا اظہار (https://niazitvnews.com/?p=2712)۔
ماخذ: جیو نیوز، آج انگلش اور پاکستان ٹوڈے کی 30 اکتوبر 2026 کی رپورٹس۔