ٹرمپ: ایران جنگ ریپبلکن شکست کی ایک وجہ بنی

0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعتراف کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نے ان کی ریپبلکن پارٹی کی مڈٹرم انتخابات میں شکست میں کردار ادا کیا۔ فاکس نیوز کو ٹیلی فون انٹرویو میں ٹرمپ نے کہا کہ جنگ “اس کا ایک حصہ” تھی، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران کے خلاف کارروائی پر کوئی پچھتاوا محسوس نہیں کرتے اور اگر ضرورت پڑی تو دوبارہ یہی فیصلہ کریں گے۔

ٹرمپ نے کیا کہا

انٹرویو میں ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا شکست کا تعلق ایران جنگ سے تھا، تو انہوں نے جواب دیا کہ “مجھے لگتا ہے کہ اس کا ایک حصہ ایران تھا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ لوگ سمجھتے ہیں کہ میں نے ایران کے معاملے میں جو کچھ کیا وہ کتنا اہم تھا۔” انہوں نے کہا کہ وہ نتائج سے “تھوڑے حیران” ہوئے اور انہیں توقع تھی کہ ریپبلکن بہتر کارکردگی دکھائیں گے۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ نتائج کو قبول کریں گے، ڈیموکریٹس کے ساتھ کام کریں گے اور اپنی کابینہ میں تبدیلی کی کوئی وجہ نہیں دیکھتے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ڈیموکریٹس کوئی ایسا بل بھیجیں گے جسے وہ “پاگل پن” سمجھیں گے تو وہ اسے ویٹو کر دیں گے۔

ایندھن کی قیمتیں اور مہنگائی

ٹرمپ کے مطابق ووٹرز ایران پالیسی سے متفق تھے لیکن جنگ کے نتیجے میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کا بوجھ برداشت کرنے کو تیار نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ ایران کے معاملے میں ان کے موقف سے اتفاق کرتے ہیں، “لیکن شاید وہ پیٹرول کے لیے زیادہ قیمت ادا کرنے کے قلیل مدتی نتیجے کے لیے تیار نہیں تھے۔”

اعداد کے مطابق جنگ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں سے شروع ہوئی تھی اور اپریل میں جنگ بندی ہوئی تھی۔ پینٹاگون کے اندازے کے مطابق جنگ پر ٹیکس دہندگان کے 47 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ آئے۔ فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق جارجیا میں پیٹرول کی قیمت تقریباً 3.66 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی، جبکہ جنگ سے پہلے فروری میں اوسط قیمت 2.72 ڈالر تھی۔

پولنگ اور ووٹرز کا رجحان

فاکس نیوز کے ایک سروے میں 71 فیصد افراد نے کہا کہ انتظامیہ کے پاس جنگ ختم کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے، جبکہ اسی ماہ ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ کم سطح 36 فیصد تک گر گئی۔ الیکشن نائٹ کے ووٹر سروے میں نوجوان، آزاد، دیہی اور ہسپانوی ووٹرز نے ایران جنگ اور ٹیرف کو ریپبلکنز سے دوری کی وجہ قرار دیا۔ فاکس نیوز کے میزبان شان ہینٹی نے کہا کہ جنگ کے بغیر نتائج “سو فیصد” مختلف ہوتے۔

ایران کا ردعمل

ایران کے پارلیمانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بدھ کو کہا کہ امریکی عوام نے “جنگ کو نہ” کہہ دیا ہے اور امریکی حکومت کو عوامی رائے کو نظرانداز کر کے دوبارہ حملہ نہیں کرنا چاہیے۔ ایران کے مذاکرات کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی ووٹ نے جنگ اور مہنگائی کے خلاف پیغام دیا ہے۔

آگے کیا ہوگا

ڈیموکریٹس کے جنوری میں دونوں ایوانوں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد جنگی اختیارات، اخراجات کی نگرانی اور ویٹو کے معاملات پر کشمکش متوقع ہے۔ ٹرمپ نے مزید ایرانی حملوں کو مسترد نہیں کیا ہے اور کہا ہے کہ اس بارے میں “جائزہ لیا جائے گا۔” قطر کی ثالثی میں مذاکرات جاری ہیں، جبکہ ایران امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔

ٹرمپ نے اس سے قبل سال کے آخر سے اسرائیل کو 4 ارب ڈالر کی امداد بند کرنے کا بھی اعلان کیا تھا، جبکہ ڈیموکریٹس کی دونوں ایوانوں میں کامیابی نے ان کے ایجنڈے کو چیلنج کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں:

https://niazitvnews.com/?p=3607

https://niazitvnews.com/?p=3597

ذرائع: گلف نیوز، ٹی آر ٹی ورلڈ، ہاریٹز/رائٹرز، انڈین ایکسپریس — 4 نومبر 2026

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *