بلوچستان میں سیکیورٹی پر دو الگ حملے — نصیر آباد میں 2 پولیس اہلکار شہید، مستونگ میں 20 زیر تربیت اہلکار اغوا
بلوچستان میں 17 اور 18 اکتوبر کو پولیس پر دو الگ الگ حملے ہوئے — نصیر آباد میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو پولیس کانسٹیبل شہید ہو گئے، جبکہ مستونگ میں کوئٹہ–کراچی ہائی وے پر مسلح افراد 20 زیر تربیت پولیس اہلکاروں کو وین سمیت اغوا کر کے پہاڑی علاقوں کی طرف لے گئے۔ دونوں واقعات کے بعد سیکیورٹی فورسز نے وسیع سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے اور اب تک کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی۔
نصیر آباد: بیڈر پل کے قریب فائرنگ
نصیر آباد ضلع میں بیڈر پل کے قریب نامعلوم مسلح افراد نے پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی۔ فائرنگ کے نتیجے میں دو کانسٹیبل — احمد لاشاری اور ملک بگٹی — شہید ہو گئے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حملہ آور اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ چھین کر فرار ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا گیا۔
مستونگ: چھٹی پر جاتے 20 اہلکار اغوا
دوسرا واقعہ مستونگ ضلع میں پیش آیا، جہاں کوئٹہ–کراچی ہائی وے پر موٹر سائیکلوں پر سوار مسلح افراد نے ایک وین روک لی۔ وین میں قلات پولیس ٹریننگ سینٹر کے 20 زیر تربیت اہلکار سوار تھے، جو رکشاں ڈویژن کے سابق لیویز اہلکار ہیں اور چھٹی پر گھر جا رہے تھے۔ مسلح افراد ڈرائیور اور تین مسافروں کو چھوڑ کر 20 اہلکاروں کو اپنے ساتھ لے گئے۔
سرچ آپریشن اور حکام کا موقف
دونوں واقعات کے بعد پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے پہاڑی اور ملحقہ علاقوں میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ حکام کے مطابق اغوا شدہ اہلکاروں کی بازیابی کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ تاحال کسی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
یہ خبر ڈان اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹنگ پر مبنی ہے۔