میانوالی میں 13 سالہ لڑکی کے قتل کے الزام میں کزن گرفتار — ہجاب پر اعتراض کے بعد سات گولیاں چلانے کا مقدمہ درج

0
میانوالی میں پولیس کی کارروائی

میانوالی میں ہجاب نہ پہننے کے اعتراض پر 13 سالہ لڑکی کو مبینہ طور پر سات گولیاں مار کر قتل کرنے کے الزام میں پولیس نے اس کے کزن کو گرفتار کر لیا ہے۔ واقعہ صدر تھانے کی حدود میں پیش آیا، جہاں لڑکی اپنے والد کے ساتھ خریداری کے لیے نکلی تھی۔

واقعہ کیا ہوا؟ (ایف آئی آر کے مطابق)

موضع بیٹیاں، صدر تھانہ میانوالی کی حدود میں جمعرات 15 اکتوبر کو والد اپنی 13 سالہ بیٹی کے ساتھ گھریلو خریداری کے لیے نکلے تھے۔ راستے میں مبینہ طور پر لڑکی کے کزن (ملزم) نے انہیں روکا، ہجاب نہ پہننے پر اعتراض کیا اور مبینہ طور پر دھمکی دی: “آج میں تمہیں سبق سکھاؤں گا۔” اس کے بعد ملزم نے مبینہ طور پر پستول سے سات گولیاں چلائیں؛ لڑکی موقع پر جاں بحق ہو گئی۔

پولیس کی کارروائی

پولیس کے مطابق لاش ڈی ایچ کیو اسپتال میانوالی منتقل کر کے پوسٹ مارٹم کرایا گیا اور والد کی مدعیت میں صدر تھانے میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا۔ ڈیلی پاکستان کے مطابق مقدمہ غیرت سے متعلق دفعات کے تحت درج کیا گیا؛ ملزم واردات کے بعد فرار ہو گیا تھا۔ ڈی پی او میانوالی وقار عظیم کھرل نے نوٹس لیتے ہوئے فوری گرفتاری کا حکم دیا اور سی آئی اے و صدر پولیس پر مشتمل خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

نئی پیشرفت: ملزم گرفتار

آج نیوز (17 اکتوبر) کے مطابق ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ بعض رپورٹس میں ملزم کی عمر 16 اور بعض میں 20 بتائی گئی ہے — پولیس کی حتمی تصدیق باقی ہے، اس لیے پوسٹ میں عمر کو حتمی نہیں لکھا جا رہا۔ ڈائیلاگ پاکستان کے مطابق پولیس نے ملزم کو حراست میں لے کر آلہ قتل (پستول) بھی برآمد کر لیا ہے۔ تحقیقات جاری ہیں؛ الزامات ابھی عدالت میں ثابت ہونا باقی ہیں اور قانون کے مطابق ملزم کو جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے۔

عوامی ردعمل

واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے جس میں ریسکیو عملے کے ہاتھوں سفید چادر میں لپٹی لاش اٹھانے کی فوٹیج دیکھی جا سکتی ہے۔ خواتین پر تشدد اور “غیرت” کے نام پر قتل کے خلاف عوامی غم و غصہ پایا جاتا ہے؛ حقوقِ نسواں کے کارکنوں کی جانب سے سخت قوانین اور بہتر نفاذ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

پس منظر

ایف آئی آر کے مطابق ملزم پہلے بھی لڑکی کو ہجاب کے بغیر باہر نکلنے سے روکتا تھا۔ پولیس کی جانب سے علاقے میں گشت بڑھانے اور کمیونٹی آگاہی کی باتیں بھی سامنے آئی ہیں۔

ذرائع: آج نیوز، ڈیلی پاکستان، ڈائیلاگ پاکستان، دی کرنٹ، منٹ مرر (17 اکتوبر 2026)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *