سندھ کی ٹیچر لائسنسنگ پالیسی کو بین الاقوامی پذیرائی، چھ ممالک تجربے سے سیکھنے کے خواہشمند
سندھ حکومت کی ٹیچر لائسنسنگ پالیسی اور سندھ ٹیچرز ایجوکیشن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (STEDA) کے نفاذ کو سری لنکا کے دارالحکومت کولمبو میں منعقدہ DHIS2 ایشیا پیسیفک کانفرنس 2026 میں بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ہے۔ کانفرنس میں مصر، بنگلہ دیش، تیونس، سری لنکا اور مالدیپ سمیت چھ ممالک کے نمائندوں نے سندھ کے تجربے سے سیکھنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ صوبائی وزیرِ تعلیم سردار علی شاہ نے اس پذیرائی کو سندھ کے تعلیمی شعبے کے لیے اہم کامیابی قرار دیا ہے۔
کانفرنس میں سندھ کی پیشکش
کولمبو میں ہونے والی کانفرنس کے دوران سندھ کے وفد نے ٹیچر لائسنسنگ پالیسی کے نفاذ، اساتذہ کی اہلیت کے معیار اور ڈیٹا پر مبنی نگرانی کے نظام پر تفصیلی بریفنگ دی۔ شرکا کو بتایا گیا کہ سندھ نے اساتذہ کی بھرتی، تربیت اور مسلسل جائزے کو ایک مرکزی فریم ورک کے تحت منظم کیا ہے، جس سے تعلیمی معیار میں بہتری کا واضح راستہ نکلا ہے۔
چھ ممالک کی دلچسپی
کانفرنس کے دوران مصر، بنگلہ دیش، تیونس، سری لنکا اور مالدیپ سمیت چھ ممالک کے نمائندوں نے سندھ کے ماڈل کو اپنے اپنے تعلیمی نظاموں میں اپنانے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔ وزیرِ تعلیم سردار علی شاہ کے مطابق یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کا ایک صوبہ بھی تعلیمی اصلاحات میں خطے کی رہنمائی کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی محنت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا جانا تمام اساتذہ اور تعلیمی عملے کی مشترکہ کامیابی ہے۔
ٹیچر لائسنسنگ پالیسی کیا ہے؟
ٹیچر لائسنسنگ پالیسی کے تحت اساتذہ کو باقاعدہ لائسنس حاصل کرنا ہوتا ہے، جو ان کی تعلیمی اہلیت، تدریسی مہارت اور پیشہ ورانہ رویے کی بنیاد پر جاری ہوتا ہے۔ سندھ ٹیچرز ایجوکیشن ڈیویلپمنٹ اتھارٹی (STEDA) اس نظام کے نفاذ، تربیت اور نگرانی کی ذمہ دار ہے۔ اس پالیسی کا مقصد اسکولوں میں اہل اور تربیت یافتہ اساتذہ کی فراہمی یقینی بنانا ہے۔
جنوری 2027 کا منصوبہ
وزیرِ تعلیم کے مطابق جنوری 2027 میں ہونے والی اگلی نشست میں تمام صوبوں کو اپنے تجربات پیش کرنے کا موقع ملے گا، جہاں سندھ اپنی پالیسی کی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ پیش کرے گا۔ تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ماڈل کامیابی سے جاری رہا تو یہ پاکستان کے دیگر صوبوں کے لیے بھی قابلِ تقلید ہوگا۔
ذرائع: ڈیلی کراچی ٹائمز (18 اکتوبر 2026)