ایران کے ساتھ تجارت عارضی معطل — تفتان اور گبد۔ریمدان سرحدی کراسنگز بند، سینکڑوں ٹرک پھنس گئے
پاکستان نے سکیورٹی اور اسمگلنگ کے خدشات پر ایران کے ساتھ دو اہم سرحدی کراسنگز تفتان اور گبد۔ریمدان پر تجارتی آمدورفت عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔ وزارت تجارت نے 16 اکتوبر کو جاری ایک میمورنڈم کے ذریعے 3 اکتوبر کو دیا گیا اجازت نامہ فوری طور پر واپس لے لیا، جس کے بعد ایل پی جی، چاول اور پھلوں سے لدے سینکڑوں ٹرک دونوں اطراف پھنس گئے۔
کیا ہوا؟
تفتان اور گبد۔ریمدان (بلوچستان) کے راستے ایران سے آنے والا تجارتی سامان روک دیا گیا ہے۔ متاثرہ سامان میں ایل پی جی، چاول اور تازہ پھل شامل ہیں، اور سینکڑوں ٹرک سرحد کے دونوں جانب انتظار میں کھڑے ہیں۔ کوئٹہ چیمبر آف کامرس نے تاجروں کو ہدایت کی ہے کہ حالات واضح ہونے تک تازہ آرڈرز نہ دیں۔
بندش کی وجہ — دو مختلف دعوے
بلوچستان حکومت کے وزیراعلیٰ کے مشیر اطلاعات شاہد رند کے مطابق یہ اقدام دونوں جانب کی سکیورٹی صورتحال بہتر بنانے اور اسمگلنگ روکنے کے لیے کیا گیا ہے، اور یہ عارضی ہے — دونوں ممالک کے حکام مذاکرات میں ہیں۔ دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بھی بندش کو عارضی قرار دیا، مگر اس کی وجہ “تکنیکی مسائل” بتائی۔
ایل پی جی کی قیمتوں پر اثر
گبد۔ریمدان کے راستے روزانہ 4,000 ٹن سے زائد ایل پی جی پاکستان آتی ہے۔ تجارتی ذرائع کے مطابق اگر بندش طویل ہوئی تو کراچی سمیت بڑے شہروں میں ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، جس کا بوجھ صارفین پر پڑے گا۔
آگے کیا ہوگا؟
دونوں جانب کے حکام مذاکرات میں ہیں اور بندش کو عارضی قرار دیا گیا ہے، مگر مکمل بحالی کا انحصار ان مذاکرات کے نتیجے پر ہے۔ تاجروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ صورتحال بہتر ہونے تک نئے معاہدوں سے گریز کریں۔
ذرائع: ProPakistani، ThePrint (پی ٹی آئی)، The Tribune India (اے این آئی)