اسپین: ٹرین حادثے کے بعد وزیر ٹرانسپورٹ مستعفی

0

اسپین کے وزیر ٹرانسپورٹ آسکر پوئنٹے نے گزشتہ ہفتے کے مہلک ٹرین حادثے کے بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ 28 اکتوبر کو میڈرڈ سے جنوب میں واقع قصبے اردا کے قریب تیز رفتار ٹرین کے حادثے میں 69 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ پوئنٹے نے منگل کو پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی کے سامنے کئی گھنٹے کی پیشی کے اختتام پر یہ اعلان کیا، اس سے چند گھنٹے قبل ہی انہوں نے متاثرین کے لیے ہنگامی امدادی پیکج اور ریل سیفٹی کے نئے اقدامات پیش کیے تھے۔

پوئنٹے نے استعفیٰ کیوں دیا

پوئنٹے نے قانون سازوں سے کہا کہ اسپین جیسے ملک میں وزیر ٹرانسپورٹ ایک سال سے بھی کم عرصے میں اس شدت کے دو حادثوں کے بعد عہدے پر نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے حادثے کی خبر ملنے کے چند منٹ بعد ہی استعفیٰ کا فیصلہ کر لیا تھا، لیکن ہنگامی امداد کا کام شروع ہونے، ابتدائی تحقیقات کا آغاز اور متاثرین کے معاوضے و سیفٹی کے پہلے اقدامات مکمل ہونے تک عہدے پر رہنے کا فیصلہ کیا۔ پوئنٹے نے 29 نومبر کو ہونے والے قبل از وقت عام انتخابات کے لیے اپنی پارٹی کی فہرست سے بھی اپنا نام واپس لے لیا ہے۔ وزیراعظم پیڈرو سانچیز نے 29 نومبر کے انتخابات کا اعلان پہلے ہی کر رکھا ہے، اس لیے یہ استعفیٰ انتخابات سے صرف چار ہفتے قبل آیا ہے۔

اردا حادثہ کیسے پیش آیا

28 اکتوبر کا حادثہ میڈرڈ سیویل ہائی اسپیڈ لائن پر پیش آیا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق میڈرڈ سیویل لائن پر سیکیورٹی سسٹم کے لیے اہم مواصلاتی نظام بند ہو گیا تھا جس کے بعد کئی ٹرینیں خودکار طور پر رک گئیں۔ میڈرڈ میں مرکزی کنٹرولرز نے کنٹرول سنبھالا اور سرکاری کمپنی رینفے کی تیز رفتار ٹرین کو آگے بڑھنے کی اجازت دی، حالانکہ آگے نجی کمپنی آئریو کی ایک ٹرین رکی ہوئی تھی۔ دونوں ٹرینوں میں تصادم ہوا اور تفتیش کاروں کے اندازے کے مطابق ٹکر کے وقت رفتار 160 سے 200 کلومیٹر فی گھنٹہ تھی۔ حادثے کی حتمی وجہ ابھی طے نہیں ہوئی ہے اور تحقیقات جاری ہیں، جن میں کنٹرول سسٹم اور کنٹرول سینٹر کی ہدایات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

اس سال کا دوسرا مہلک حادثہ

اردا کا حادثہ اس سال میڈرڈ سیویل لائن پر دوسرا مہلک حادثہ تھا۔ جنوری میں اسی لائن پر مزید جنوب میں واقع مقام پر ایک ٹرین پٹری سے اتر کر مخالف سمت سے آنے والی ٹرین سے ٹکرا گئی تھی جس میں 46 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حادثے کی تحقیقات بھی ابھی جاری ہیں۔ یوں ایک سال سے کم عرصے میں ایک ہی لائن پر دو حادثوں میں 115 افراد کی جانیں جا چکی ہیں، جس نے اسپین کے ریل نیٹ ورک کی سیفٹی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اسپین کا ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک دنیا کا دوسرا سب سے بڑا نیٹ ورک سمجھا جاتا ہے اور اس سال سے پہلے تین دہائیوں سے اس میں کوئی مہلک حادثہ نہیں ہوا تھا۔

حکومت کے نئے سیفٹی اقدامات

استعفے سے قبل منگل کو پوئنٹے نے ریل سیفٹی کے نئے اقدامات کا بھی اعلان کیا۔ ان میں میڈرڈ سیویل لائن پر سروسز میں کمی کرنا شامل ہے جو اس وقت تک جاری رہے گی جب تک ریلوے سیفٹی ایجنسی لائن کے سیفٹی سسٹم کا جائزہ مکمل نہیں کر لیتی اور یورپی ریل ٹریفک مینجمنٹ سسٹم کا تاخیر کا شکار رول آؤٹ مکمل نہیں ہو جاتا۔ کنٹرول سینٹرز کے حالات بہتر بنانے اور معیاری یورپی سیفٹی و سگنلنگ نظام کو تیزی سے نافذ کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔ وزیراعظم سانچیز نے حادثے کی مکمل تحقیقات کا وعدہ کیا ہے اور کہا ہے کہ تحقیقات میں سامنے آنے والی خامیوں کو دور کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: اسپین ٹرین حادثے کی تحقیقات، 70 خاندان منتظر — https://niazitvnews.com/?p=2941
مزید پڑھیں: یورپ میں 7 پروازوں کو بم دھمکیاں — https://niazitvnews.com/?p=3535

ذرائع: ایسوسی ایٹڈ پریس، بزنس ورلڈ اور ای ٹی وی بھارت کی 4 نومبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *