افغان واپسی: طورخم سے ایک دن میں 1145 افراد

0

خیبر پختونخوا سے افغان شہریوں کی واپسی کا سلسلہ تیز ہو گیا ہے۔ صوبائی ہوم ڈیپارٹمنٹ کے حوالے سے ٹی این این کی 3 نومبر کی رپورٹ کے مطابق منگل کو ایک ہی دن میں 1145 افراد کو طورخم بارڈر کے راستے افغانستان واپس بھیجا گیا۔ ان میں 543 پروف آف رجسٹریشن (پی او آر) کارڈ ہولڈرز، 114 افغان سٹیزن کارڈ (اے سی سی) ہولڈرز اور 488 غیر دستاویزی افغان شہری شامل تھے۔

یہ پیش رفت 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہے۔ ٹولو نیوز کی رپورٹ کے مطابق پیر تک تقریباً 50 افغان خاندان طورخم کے راستے واپس جا چکے تھے، جب کہ خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں افغان مہاجرین کی گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ واپسی کا عمل مرحلہ وار جاری رہے گا۔

طورخم سے اب تک کتنے افراد واپس گئے؟

ٹی این این کے مطابق اب تک صرف طورخم کے راستے 176132 پی او آر کارڈ ہولڈرز، 62747 اے سی سی ہولڈرز اور 666542 غیر دستاویزی افغان شہری افغانستان واپس جا چکے ہیں۔ انگور اڈہ بارڈر سے بھی 1241 پی او آر، 496 اے سی سی اور 8447 غیر دستاویزی افراد کی واپسی رپورٹ ہوئی ہے۔

دوسرے صوبوں سے بھی افغان شہریوں کو خیبر پختونخوا منتقل کر کے آگے بھیجا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اب تک دوسرے صوبوں سے 4313 پی او آر، 10384 اے سی سی اور 37023 غیر دستاویزی افراد منتقل کیے جا چکے ہیں۔ ٹرانزٹ مراکز سے بھی کارروائیاں جاری ہیں، جہاں سے اب تک 7431 افراد کو ڈی پورٹ کیا جا چکا ہے۔

واپس جانے والوں کی شکایات اور افغان حکام کا موقف

ٹولو نیوز سے بات کرتے ہوئے واپس جانے والے بعض افغان شہریوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں کام کی جگہ سے گرفتار کیا گیا اور ان کے پیسے بھی لے لیے گئے۔ ایک واپس جانے والے شخص نے بتایا کہ وہ ایک فیکٹری میں کام کر کے روزانہ تقریباً 600 روپے کماتا تھا، لیکن اسے کام سے روک کر گرفتار کیا گیا اور طورخم کے راستے زبردستی واپس بھیج دیا گیا۔ یہ شکایات واپس جانے والوں کے اپنے بیانات ہیں، جن کی آزادانہ تصدیق رپورٹ میں نہیں کی گئی۔

دوسری جانب ننگرہار کے محکمہ اطلاعات و ثقافت کے عہدیدار قریشی بادلون نے کہا ہے کہ طورخم پر افغان حکومت کا کمیشن واپس آنے والوں کو مکمل خدمات اور سہولتیں فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ان کے مطابق واپسی کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

ایک دن میں 462 افراد کی واپسی کا دعویٰ

طالبان حکام کے حوالے سے ہشت صبح کی 3 نومبر کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز 100 خاندانوں پر مشتمل 462 افراد کو زبردستی افغانستان واپس بھیجا گیا۔ طالبان کے نائب ترجمان حمداللہ فطرت کے بیان کے مطابق ان میں سے 65 خاندان (203 افراد) نمروز میں سلک برج، 12 خاندان (62 افراد) طورخم، چار خاندان (27 افراد) اسپن بولدک اور 19 خاندان (71 افراد) اسلام قلعہ کے راستے داخل ہوئے۔ یہ اعداد مختلف دنوں اور مختلف سرحدی گزرگاہوں سے متعلق ہیں، اس لیے انہیں طورخم کے منگل کے اعداد کے ساتھ ملا کر ایک مجموعہ نہیں بنایا جا سکتا۔

پس منظر: یکم نومبر سے صوبہ گیر آپریشن

پاکستان آبزرور کی رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے یکم نومبر سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان شہریوں اور دیگر غیر دستاویزی غیر ملکیوں کی شناخت اور واپسی کے لیے صوبے بھر میں آپریشن کی تیاری مکمل کی تھی، جس میں 120 خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئی تھیں۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا تھا کہ مہلت ختم ہونے کے بعد افغان مہاجرین کو عزت و احترام کے ساتھ وطن واپس بھیجا جائے گا۔ صوبے میں گورنر راج اور بعض اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سیکیورٹی اقدامات بھی سخت کیے گئے ہیں۔

واپسی کے اس عمل پر انسانی حقوق کے حلقوں اور افغان حکام کی جانب سے تحفظات بھی سامنے آتے رہے ہیں، جب کہ پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ کارروائی صرف غیر دستاویزی افراد کے خلاف ہے اور یہ قانون کے مطابق کی جا رہی ہے۔

مزید خیبر پختونخوا کی خبروں کے لیے دیکھیں: محمند میں پولیو ٹیم پر حملہ (https://niazitvnews.com/?p=3449) اور ٹانک میں پولیو ورکرز کا اغوا (https://niazitvnews.com/?p=3360)۔

ذرائع: ٹی این این، ٹولو نیوز، ہشت صبح اور پاکستان آبزرور کی 3 نومبر 2026 کی رپورٹس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *