اقرار الحسن کو بڑا جھٹکا — عدالت نے جسمانی ریمانڈ میں مزید دو دن کی توسیع کر دی، اخراج کی درخواست مسترد

0
کراچی کی ایک عدالت کی عمارت اور انصاف کے ترازو کی علامتی تصویر (کسی اصل شخص کی تصویر نہیں)

کراچی کی جوڈیشل مجسٹریٹ (ایسٹ) کی عدالت نے اینکر اور عوام راج پارٹی کے سربراہ اقرار الحسن کا جسمانی ریمانڈ مزید دو دن کے لیے بڑھا دیا ہے۔ عدالت نے ملزم کی طرف سے دائر اخراجِ مقدمہ کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ ہفتے کے روز ہونے والی سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کر دیا گیا۔

عدالت نے کیا حکم دیا؟

ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ (ایسٹ) گلریز میمن نے اپنے تحریری حکم میں کہا کہ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) ایک وفاقی ادارہ ہے اور اسے ملک بھر میں کارروائی کا اختیار حاصل ہے، اسے کسی صوبائی محکمہ داخلہ کی اجازت درکار نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ دفاع کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات کا جائزہ ٹرائل کے دوران لیا جا سکتا ہے۔ ڈان کے مطابق تفتیشی افسر نے پہلے چار روزہ ریمانڈ کی میعاد ختم ہونے کے بعد عدالت سے 10 دن کی مزید توسیع مانگی تھی، جبکہ دفاع کے وکیل نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 63 کے تحت ملزم کے اخراج کی درخواست دی، جسے عدالت نے مسترد کر دیا۔

مقدمے کا پس منظر

این سی سی آئی اے کے مطابق مقدمہ نمبر 101/2026 دس اکتوبر کو کراچی کے سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر میں درج کیا گیا تھا، جس میں پیکا ایکٹ 2016 کی دفعات 9، 10، 20، 24 اور 26-اے لگائی گئی ہیں۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ ملزم نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس (ایکس، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹک ٹاک) کے ذریعے ریاستی اداروں اور حکومتی اہلکاروں کے اقدامات کو متنازع انداز میں پیش کر کے عوام میں بے اعتمادی اور بے چینی پھیلانے کی کوشش کی۔ تفتیشی افسر کے مطابق ملزم کو 12 اکتوبر کو لاہور سے گرفتار کیا گیا اور ان کے قبضے سے چار آئی فونز اور ایک آئی پیڈ تحویل میں لیے گئے، جنہیں فرانزک تجزیے کے لیے بھیجا گیا ہے۔

دفاع کا موقف

ملزم کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے موکل کے خلاف مقدمہ بے بنیاد ہے اور اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ دفاع نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ ویڈیو میں کہے گئے بیانات پورے ملک میں زیر بحث آ رہے تھے اور ان کے مواد میں پیکا ایکٹ کے تحت کوئی جرم نہیں بنتا۔ وکلا نے ملزم کی گرفتاری کی تاریخ اور متعلقہ محکمہ داخلہ سے اجازت نہ لینے پر بھی اعتراض اٹھایا تھا، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ تفتیشی افسر نے لاہور کے علاقائی مجسٹریٹ سے گرفتاری سے ایک روز قبل اجازت لی تھی۔

آگے کیا ہوگا؟

دو روزہ توسیع کے بعد ملزم کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ تفتیشی افسر کے مطابق ڈیجیٹل آلات کے فرانزک تجزیے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے، جبکہ دفاع کی جانب سے ٹرائل میں اعتراضات دوبارہ اٹھائے جانے کا امکان ہے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل 13 اکتوبر کو ملزم کے وکیل میاں علی اشفاق کی جانب سے ریمانڈ کے طریقہ کار کی جوڈیشل انکوائری کی درخواست بھی دائر کی جا چکی ہے۔

(ماخذ: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *