اٹلانٹا میں جی 20 وزرائے خارجہ اجلاس، ایران یوکرین ایجنڈا
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو جمعہ 30 اکتوبر کو اٹلانٹا میں جی 20 ممالک کے وزرائے خارجہ کی میزبانی کریں گے، جہاں دو روزہ اجلاس میں ایران اور یوکرین کی جنگیں اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مرکزی موضوع ہوں گی۔ یہ اجلاس امریکا میں منگل کو ہونے والے اہم وسط مدتی انتخابات سے چند روز قبل ہو رہا ہے، اور اسے دسمبر میں میامی میں ہونے والے جی 20 سربراہی اجلاس کی تیاری قرار دیا جا رہا ہے۔
اجلاس کا ایجنڈا
جی 20 دنیا کی بڑی معیشتوں کا گروپ ہے، جس میں چین، بھارت، روس، جاپان، جرمنی اور فرانس شامل ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق اجلاس میں توانائی کی سلامتی، سپلائی چین، سمندری راستوں کی آزادی، خوراک کی سلامتی اور بڑے عالمی بحرانوں پر بات ہو گی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اٹلانٹا میں ہونے والی گفتگو سے توانائی اور سپلائی چین کے چیلنجز پر بات کرنے اور جغرافیائی سیاسی کشیدگی کے معاشی سلامتی پر اثرات سے نمٹنے کے مشترکہ طریقے تلاش کرنے کا موقع ملے گا۔ تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس سے کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں ہے، اور حتمی اعلامیے کی بجائے امریکا کی جانب سے صدارتی خلاصہ جاری کیے جانے کا امکان ہے۔
لاوروف کی شرکت اور کشیدگی
اجلاس میں روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کی شرکت خاص توجہ کا مرکز ہے۔ لاوروف بین الاقوامی پابندیوں کی زد میں ہیں، اور وہ اس اجلاس میں پابندیوں کے خلاف موقف پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس سے یورپی وزرا کی ناراضگی کا امکان ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا لاوروف سے سامنا اس لیے بھی اہم ہے کہ واشنگٹن ایک طرف یوکرین پر سفارت کاری کر رہا ہے اور دوسری طرف ایندھن کی قیمتوں پر قابو پانے کے لیے ماسکو کے تعاون کا خواہاں ہے، جو وسط مدتی انتخابات میں ایک اہم انتخابی مسئلہ ہے۔ خبر رساں اداروں کے مطابق لاوروف جمعہ کو اٹلانٹا پہنچ چکے ہیں۔ چین کے اعلیٰ سفارت کار وانگ یی اجلاس میں شریک نہیں ہو رہے اور ان کی جگہ نائب وزیر خارجہ ما ژاؤ شو شرکت کریں گے۔
بھارت اور دیگر ممالک کی شرکت
بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر بھی اٹلانٹا پہنچ چکے ہیں اور وہ 30 سے 31 اکتوبر تک جاری رہنے والے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق اجلاس کے موقع پر جے شنکر کواڈ وزرائے خارجہ کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے اور اپنے ہم منصبوں سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔ اجلاس میں شریک دیگر اہم رہنماؤں میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کالاس، سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان، ترکیہ کے وزیر خارجہ حکان فیدان، فرانس، جرمنی، جاپان، آسٹریلیا، کینیڈا، جنوبی کوریا، برازیل اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ شامل ہیں۔ آسٹریلوی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا ہے کہ وہ امریکا، بھارت اور جاپان کے ہم منصبوں سے اس سال تیسری کواڈ میٹنگ میں ملاقات کریں گی۔
اختلافات اور پس منظر
جی 20 اجلاس کے پس منظر میں کئی اختلافات موجود ہیں۔ امریکا نے اس سال جی 20 تقریبات میں روسی حکام کا خیر مقدم کیا ہے، جبکہ جنوبی افریقہ کو رکنیت سے باہر رکھا گیا ہے، اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کو میامی اجلاس میں مدعو کیا ہے۔ دوسری طرف امریکا نے جنوبی افریقہ کو دعوت نہیں دی، جس پر تنازع موجود ہے۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کایا کالاس نے کہا ہے کہ وہ جی 20 اور یورپی یونین کینیڈا سربراہی اجلاس میں یوکرین کی حمایت مضبوط کرنے پر زور دیں گی۔ اٹلانٹا اجلاس امریکی صدارت میں آخری وزارتی اجلاس ہے، جس کے بعد 14 اور 15 دسمبر کو میامی میں ٹرمپ کے ڈورل ریزورٹ میں سربراہی اجلاس ہو گا، اور اس کے بعد جی 20 کی صدارت برطانیہ کو منتقل ہو جائے گی۔
ایران اور خطے کی کشیدگی نے اس اجلاس کو مزید اہم بنا دیا ہے، جہاں ایران کا 7 روزہ امن منصوبہ زیر بحث ہے، جبکہ سلامتی کونسل میں پاکستان کے عالمی شپنگ تحفظ کے مطالبے نے سمندری راستوں کی سلامتی کو بھی اجلاس کے ایجنڈے سے جوڑ دیا ہے۔
ذرائع: دی ہندو، اے ایف پی، ٹریبیون انڈیا، وائس آف انڈیا نیوز، کویت ٹائمز اور تلنگانہ ٹوڈے کے مطابق۔