ایران جنگ کی قیمت 47 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی، پینٹاگون
امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ پر اب تک 47 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہو چکے ہیں۔ یہ انکشاف پینٹاگون کے تازہ اعداد و شمار سے ہوا ہے، جو خبر رساں ادارے رائٹرز نے حاصل کیے ہیں۔ یہ رقم جولائی 2026 میں محکمہ دفاع کے تخمینے سے 25 فیصد سے زیادہ ہے، اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
اخراجات کی تفصیل کیا ہے؟
پینٹاگون کے تازہ تخمینے کے مطابق سب سے بڑا حصہ استعمال شدہ گولہ بارود کی تبدیلی کا ہے، جس پر 29 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔ اس کے علاوہ 6 ارب ڈالر سے زیادہ فوجی ساز و سامان اور تباہ شدہ طیاروں و ڈرونز سمیت پلیٹ فارم نقصانات کی مد میں درکار ہوں گے۔ تقریباً 12 ارب ڈالر اضافی آپریشنل اخراجات ہیں۔ گل ف نیوز کے مطابق 16 اکتوبر تک کا تخمینہ 47.1 ارب ڈالر تھا، جو ستمبر کے اوائل سے 3.5 ارب ڈالر زیادہ ہے۔
ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ان اعداد میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کی قیمت واضح طور پر شامل نہیں ہے۔ رائٹرز اور دی ہل کی رپورٹس کے مطابق اگر اڈوں کی مرمت شامل کی جائے تو اصل مجموعی قیمت اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ پینٹاگون نے ان اعداد پر فوری طور پر تبصرہ نہیں کیا ہے، اور یہ تخمینہ عوامی طور پر جاری نہیں کیا گیا تھا۔
جنگ کب شروع ہوئی اور حکمت عملی کیا تھی؟
رائٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فروری 2026 میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف جنگ شروع کی تھی، اور ابتدا میں پیش گوئی کی تھی کہ یہ تنازع مختصر ہوگا۔ امریکی حکمت عملی پہلے مہنگے اور جدید ترین درست نشانے والے میزائلوں سے ایران کے دفاعی نظام کو نشانہ بنانے کی تھی، تاکہ بعد میں سستے ہتھیار، جیسے جے ڈیم (JDAM) گریویٹی بم، استعمال کیے جا سکیں۔
تاہم اپریل میں جنگ بندی کے دوران ایران کو زیر زمین ذخیرہ گاہیں دوبارہ کھولنے، دفاعی نظام بحال کرنے اور ایسے میزائل و ڈرون دوبارہ فعال کرنے کا موقع ملا جو پہلے ناقابل رسائی ہو گئے تھے۔ اس سے جنگ طویل ہوئی اور اخراجات بڑھتے چلے گئے۔
امریکی سیاست پر اثرات
جنگ کی بڑھتی ہوئی قیمت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ میں 3 نومبر کو وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں، جن میں کانگریس کے کنٹرول کا فیصلہ ہوگا۔ رائٹرز کے مطابق جنگ کے توانائی کی قیمتوں پر اثرات نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کو متاثر کیا ہے اور صدر ٹرمپ کی مقبولیت کو نقصان پہنچایا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے۔
ٹرمپ کا موقف رہا ہے کہ ایندھن کی بلند قیمتیں ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کی قیمت ہے۔ دوسری طرف ناقدین کا کہنا ہے کہ طویل جنگ اور بڑھتے اخراجات امریکی معیشت اور عام شہریوں پر بوجھ بن رہے ہیں۔
تیل کی قیمتوں پر اثر
جنگ کے دوران تیل کی قیمتیں بھی دباؤ میں رہی ہیں۔ بدھ کو سعودی عرب کی ایک ریفائنری پر حملے کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 1.48 ڈالر اضافے سے 115.36 ڈالر فی بیرل اور امریکی ڈبلیو ٹی آئی 101.12 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کے لیے عالمی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ براہ راست اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس کا اثر مقامی پٹرول و ڈیزل کی قیمتوں اور مہنگائی پر پڑتا ہے۔
دنیا کی دیگر اہم خبروں کے لیے پڑھیں: ایف اے ٹی ایف اجلاس میں بھارت پاکستان کو گھیرنے کی تیاری https://niazitvnews.com/?p=2393 اور کیوبا پابندی پر اقوام متحدہ میں آج ووٹ https://niazitvnews.com/?p=2379
ذرائع: رائٹرز، ڈان، خلیج ٹائمز، دی ہل، گل ف نیوز۔