ایران کا پاکستان کو یقین: ایل پی جی پر کوئی پابندی نہیں

0

پاکستان میں ایران کے سفیر نے واضح کیا ہے کہ ایرانی جانب سے ایل پی جی سمیت ایرانی اشیا کی پاکستان کو برآمد پر کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔ سفیر کے بیان کے مطابق پڑوسی ملک کے لیے سرحد بند کرنا نہ تو منطقی ہے اور نہ ہی دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے، خاص طور پر برادر ملک پاکستان کے لیے۔ یہ بیان 25 اکتوبر کو سامنے آیا ہے، جس دن گبد رمدان سرحد سے تجارت کی بحالی کی خبر بھی آئی تھی۔

ای فارم: تاجروں کی اصل رکاوٹ

سفیر نے کہا کہ پاکستان کے ای فارم کے طریقہ کار پر عمل درآمد میں تبدیلیوں کے باعث تاجر عملی طور پر ایران سے پاکستان کو مال روانہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس مسئلے پر پاکستانی فریق سے مشاورت جاری ہے، تاکہ تجارت کا سلسلہ معمول پر آ سکے۔ ای فارم وہ دستاویز ہے جس کے ذریعے درآمدی ادائیگیاں بینک کے ذریعے ہوتی ہیں، اور اس کے طریقہ کار میں تبدیلی سے سرحدی تجارت براہ راست متاثر ہوئی ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اطلاعات کے مطابق ایل پی جی سے لدے کئی سو ٹرک رمدان سرحد سے پاکستان کی جانب گبد پہنچ چکے ہیں، مگر کئی ہفتے گزرنے کے باوجود ان ٹرکوں کو نہ اتارا گیا ہے اور نہ ہی کلیئر کیا گیا ہے۔ اس سے سرحدی تجارت اور توانائی کی فراہمی کا سلسلہ مزید پیچیدہ ہو گیا ہے، اور تاجروں کو مسلسل غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

گبد رمدان: بحالی کے بعد بھی کلیئرنس کا مسئلہ

گبد رمدان سرحدی گزرگاہ بلوچستان کے ضلع گوادر میں واقع ہے، جسے گیٹ 250 بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستان نے 17 اکتوبر کو تجارت معطل کی تھی، جس کے بعد 25 اکتوبر کو تجارت بحال ہوئی اور 16 اکتوبر یا اس سے پہلے کی کنسائنمنٹ نوٹس والی گاڑیوں کو گزرنے کی اجازت دی گئی۔ گوادر چیمبر آف کامرس کے صدر میر نوید جان کلمتی نے سرحد کھلنے کی تصدیق کی تھی اور کہا تھا کہ اس سے تاجروں اور ٹرانسپورٹروں کو فوری ریلیف ملے گا۔
تاہم سفیر کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سرحد کھلنے کے باوجود کلیئرنس کا مسئلہ حل نہیں ہوا ہے۔ گبد رمدان سے پاکستان کو روزانہ 4 ہزار ٹن سے زیادہ ایل پی جی آتی ہے، اور سردیوں کی آمد کے ساتھ ایل پی جی کی مانگ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس لیے کلیئرنس میں تاخیر سے ملک میں ایل پی جی کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

پاکستان ایران تجارت کا پس منظر

پاکستان اور ایران کے درمیان 909 کلومیٹر طویل سرحد ہے، جس پر چار سرکاری گزرگاہیں ہیں۔ دونوں ملکوں نے اگست میں مشترکہ تجارتی کمیٹی کے اجلاس میں دوطرفہ تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف مقرر کیا تھا۔ اس پس منظر میں سرحدی تجارت میں رکاوٹ دونوں ملکوں کے تاجروں کے لیے نقصان دہ ہے۔
پاکستانی حکام نے سرحد بند کرنے کی کوئی سرکاری وجہ نہیں بتائی تھی، جب کہ ایرانی وزارت خارجہ نے اسے عارضی اور تکنیکی معاملہ قرار دیا تھا۔ اب سفیر کے بیان سے یہ واضح ہوا ہے کہ ایرانی جانب سے کوئی پابندی نہیں ہے، اور مسئلہ طریقہ کار اور کلیئرنس کا ہے، جس پر دونوں فریق مشاورت کر رہے ہیں۔ تاجروں کو امید ہے کہ جلد ہی ٹرکوں کی کلیئرنس شروع ہوگی اور ایل پی جی کی فراہمی معمول پر آئے گی۔
مزید پڑھیں: ایران بارڈر کھل گیا — گبد رمدان سے تجارت بحال — https://niazitvnews.com/?p=1845
مزید پڑھیں: آبنائے ہرمز: ایران نے امریکا کو پیشکش کی تردید کر دی — https://niazitvnews.com/?p=1812
ذرائع: سی جی ٹی این، ڈان، نیو انڈین ایکسپریس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *