ایل پی جی بحران شدید — ایران بارڈر بندش سے سلنڈر 7 ہزار روپے

0

پاکستان اور ایران کے درمیان دو اہم سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے بعد ایل پی جی کی درآمد مکمل طور پر رک گئی ہے، جس سے ملک بھر میں ایل پی جی کی قلت اور قیمتیں بے قابو ہو رہی ہیں۔ برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز نے تاجروں کے حوالے سے تازہ رپورٹ میں خبردار کیا ہے کہ صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

بندش کی وجہ اور تنازع

رائٹرز کے مطابق 17 اکتوبر کو گبد-رمدان اور تفتان کی گزرگاہیں بند کر دی گئیں۔ پاکستان اور ایران نے بندش کی مختلف وجوہات بتائیں — بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ بندش عارضی ہے اور سیکیورٹی خدشات اور اسمگلنگ روکنے کے لیے کی گئی، جبکہ ایران کی وزارت خارجہ نے اسے تکنیکی مسئلہ قرار دیا ہے۔

پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن کے مطابق پاکستان روزانہ تقریباً 7,000 میٹرک ٹن ایل پی جی ایران سے درآمد کرتا ہے۔ گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر شمس الحق کے مطابق صرف گبد-رمدان کے راستے 4,000 ٹن سے زائد ایل پی جی روزانہ آتی تھی، اور اب یہ درآمد مکمل بند ہے۔

“یہ درآمدیں مکمل طور پر بند ہیں،” شمس الحق نے رائٹرز کو بتایا۔ ان کے مطابق ایران کے لیے آلو، کیلے اور چاول لے جانے والے ایک ہزار سے زائد پاکستانی کنٹینر بھی سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں، تاہم گبد-رمدان کی گزرگاہ بدھ کے روز پاکستان کی خراب ہونے والی اشیا کی برآمد کے لیے دوبارہ کھول دی گئی ہے۔

قیمتیں کہاں تک پہنچ گئیں؟

تاجروں کے مطابق چند ہی دنوں میں 12 کلو کے ایل پی جی سلنڈر کی قیمت 4,500 روپے سے بڑھ کر 7,000 روپے ہو گئی ہے، اور اگر رکاوٹیں برقرار رہیں تو مزید بڑھ سکتی ہے۔ پاکستان ایل پی جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین عرفان کھوکھر نے خبردار کیا ہے کہ قلت اور قیمتوں میں اضافہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

کھوکھر کے مطابق ملک بھر میں ایل پی جی کی قیمتیں مختلف ہیں — بلوچستان میں 12 کلو کا سلنڈر تقریباً 7,000 روپے، لاہور میں 7,500 روپے اور سکردو میں 8,200 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایل پی جی کی بڑھتی قیمتیں دوسری اشیا کی قیمتوں پر بھی اثر ڈال رہی ہیں۔

لاہور کے رہائشی فرحت عباس نے رائٹرز کو بتایا کہ بارڈر بند ہونے سے پہلے وہ ایل پی جی 250 روپے فی کلو کے حساب سے خریدتے تھے، اب وہی گیس 500 سے 600 روپے فی کلو میں مل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایل پی جی کی قیمت 500 سے 600 روپے فی کلو تک پہنچ گئی — سرکاری نرخ صرف 279 روپے — ہماری گزشتہ رپورٹ میں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں قیمتوں کے فرق کی تفصیل موجود ہے۔

ٹرک اور ڈرائیور پھنسے، موسمِ سرما کی فکر

شمس الحق کے مطابق ایل پی جی ٹینکرز سمیت سیکڑوں ٹرک سرحد کے دونوں جانب پھنسے ہوئے ہیں۔ کوئٹہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے اراکین کو ہدایت کی ہے کہ اگلے نوٹس تک ایران سے نئے آرڈر نہ دیں۔ سرحد پر پھنسے ٹرک ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ وہ بنیادی سہولتوں کے بغیر کئی دنوں سے انتظار کر رہے ہیں۔

عبدالغنی بلوچ نامی ایک ڈرائیور نے رائٹرز کو بتایا: “ہم ایک ہفتے سے زائد سے سرحد کھلنے کے انتظار میں کھڑے ہیں۔”

صارفین کو خدشہ ہے کہ موسمِ سرما قریب آنے کے ساتھ قلت اور مہنگائی مزید بڑھ سکتی ہے۔ پاکستان ایران کے درمیان مالی سال 2023-24 میں مجموعی تجارت تقریباً 2.8 ارب ڈالر رہی، جس میں پاکستان کی برآمدات تقریباً 68 کروڑ ڈالر تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: پٹرول اور ڈیزل کے 23 اکتوبر کے نرخ — پٹرول سستا، ڈیزل مہنگا — ایندھن کی قیمتوں کی تازہ صورتحال۔

امید کی کرن

رائٹرز کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف نے اس ہفتے تہران کا دورہ کیا اور ایرانی قیادت سے سرحدی مسائل پر بات چیت کی۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ تجارت کی بحالی کے لیے مشاورت جاری ہے، تاہم ابھی کوئی واضح ٹائم فریم سامنے نہیں آیا۔

ماخذ کریڈٹ: رائٹرز، 23 اکتوبر 2026۔ تمام اعداد و شمار اور اقوال تاجروں، چیمبر آف کامرس نمائندوں اور ایل پی جی ایسوسی ایشن کے چیئرمین کے حوالے سے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *