بلاول بھٹو: مذاکرات سے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی ختم ہوسکتی ہے — نئے نیشنل ایکشن پلان کا اعلان

0
کرساز سانحے کی یادگار پر شمعیں اور سفید پھول

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر اپوزیشن وفاقی حکومت سے مذاکرات کرے تو خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے انتظامات ختم ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بات اتوار کو کراچی میں کرساز سانحے کی 19ویں برسی کی تقریب کے موقع پر میڈیا سے گفتگو میں کہی۔

نئے نیشنل ایکشن پلان اور انتخابی اصلاحات کا اعلان

بلاول نے بتایا کہ پیپلز پارٹی دہشت گردی کے خلاف ایک نئے نیشنل ایکشن پلان اور قومی اتفاق رائے کی تشکیل پر کام کر رہی ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو پارلیمانی انتخابی اصلاحات کے عمل میں شامل ہونے کی دعوت دی اور کہا کہ وفاقی حکومت نے انتخابی اصلاحات پر کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ ان کے بقول اگر اپوزیشن واقعی دہشت گردوں سے لڑنا چاہتی ہے اور خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج ختم کرنا چاہتی ہے تو اسے وفاقی حکومت اور سیاستدانوں سے بات کر کے دہشت گردی کے خلاف متحدہ پالیسی پر اتفاق کرنا چاہیے۔

سہیل آفریدی پر تنقید

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بلاول نے کہا کہ اگر صوبائی چیف ایگزیکٹو دہشت گردوں کا مقابلہ کرنے اور اپنے صوبے کا دفاع کرنے کو تیار نہیں تو پیپلز پارٹی یہ کردار ادا کرنے کو تیار ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ان کی جماعت نے گورنر راج کے فیصلے کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو “خیبر سے خضدار تک” دہشت گردی کا سامنا ہے اور 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے سوات سمیت خیبرپختونخوا میں آپریشن کر کے دہشت گردوں کو شکست دی تھی۔

کرساز سانحے کی برسی

بلاول بھٹو اور خاتون اول آصفہ بھٹو زرداری نے کرساز یادگار پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی۔ 18 اکتوبر 2007 کو سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کے استقبالی جلوس پر ہونے والے جڑواں دھماکوں میں 180 سے زائد افراد شہید ہوئے تھے۔ بلاول نے اسے جمہوریت کے لیے دی گئی قربانیوں کی تاریخ کا ایک دردناک باب قرار دیا۔

ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، ڈان، دی نیوز، دی نیشن۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *