تھرپارکر: ایمبولینس میں دھماکہ، 10 افراد جاں بحق
تھرپارکر میں سرکاری طبی مرکز میں کھڑی ایک ایمبولینس میں آکسیجن سلنڈر پھٹنے سے کم از کم 10 افراد جاں بحق ہو گئے۔ پولیس اور اسپتال حکام کے مطابق یہ دھماکہ رات گئے ہوا، جب مریضوں کو دوسرے اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا۔ جاں بحق ہونے والوں میں طبی مرکز کا عملہ، مریض اور ان کے رشتہ دار شامل ہیں۔ یہ واقعہ 29 اکتوبر 2026 کو پیش آیا اور اس کی خبر بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے دی، جسے پاکستان اور دنیا کے کئی معتبر ذرائع ابلاغ نے شائع کیا۔
تھرپارکر کے ضلعی پولیس سربراہ عارف عزیز کے مطابق دھماکہ سندھ کے اس ضلع میں واقع سرکاری طبی مرکز میں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرین میں عملے کے ارکان، مریض اور ان کے لواحقین شامل ہیں۔ مقامی پولیس افسر خلیل ابڑو کے مطابق جس وقت دھماکہ ہوا، اس وقت مریضوں کو دوسرے اسپتال منتقل کرنے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ سوشل میڈیا اور ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر میں ایمبولینس کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ایک تصویر میں گاڑی کا جلا ہوا ڈھانچہ عمارت کے باہر کھڑا نظر آتا ہے اور لوگ اس کے گرد جمع ہیں۔
صدر زرداری کا تحقیقات کا مطالبہ
صدر آصف علی زرداری نے اس سانحے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ ایوان صدر سے جاری بیان کے مطابق صدر نے دھماکے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے فوری اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کی، زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی اور حکام پر زور دیا کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے حفاظتی اقدامات کو مزید مضبوط بنایا جائے۔
صدر کے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ اسپتالوں اور طبی مراکز میں آکسیجن سلنڈروں اور دیگر طبی آلات کی حفاظت کے معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق آکسیجن سلنڈر زیادہ دباؤ والی گیس رکھتے ہیں، اس لیے ان کی نقل و حمل، ذخیرہ اندوزی اور استعمال میں سخت احتیاط ضروری ہوتی ہے۔ کسی بھی لاپرواہی یا تکنیکی خرابی کی صورت میں یہ سلنڈر جان لیوا ثابت ہو سکتے ہیں۔
اسپتالوں میں حفاظت کا بڑا سوال
یہ واقعہ پاکستان کے اسپتالوں میں حفاظتی معیارات کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ اسی سال اگست میں اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں ایئر کنڈیشنر پھٹنے سے لگنے والی آگ میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہو گئے تھے۔ اس واقعے میں بچ جانے والا واحد بچہ بھی چند ہفتوں بعد دم توڑ گیا تھا، جس سے مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 15 ہو گئی تھی۔
صحت کے شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسپتالوں میں آگ سے بچاؤ، آکسیجن کے نظام کی باقاعدہ جانچ اور عملے کی تربیت کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق تھرپارکر جیسے دور دراز علاقوں میں طبی سہولتیں پہلے ہی محدود ہیں، اور ایسے سانحات مقامی آبادی کے اعتماد کو مزید متاثر کرتے ہیں۔ متاثرہ خاندانوں کے لیے فوری امداد، زخمیوں کا بہتر علاج اور تحقیقات کی شفاف رپورٹ منظر عام پر لانا اس وقت سب سے اہم مطالبہ ہے۔
حکام نے ابھی تک دھماکے کی حتمی وجہ کا اعلان نہیں کیا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ سلنڈر کیوں پھٹا اور اس میں کسی انسانی غلطی یا تکنیکی خرابی کا کتنا کردار تھا۔ پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی زہریلی ہوا اور ایم ڈی کیٹ 2026
ماخذ: ایسوسی ایٹڈ پریس، 29 اکتوبر 2026۔