تہران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے بعد ایرانی موقف سخت — پاکستان کو پیغام: مطالبات پورے ہونے تک امریکا سے بات چیت نہیں

0

تہران میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے بعد ایرانی موقف سخت — پاکستان کو پیغام: مطالبات پورے ہونے تک امریکا سے بات چیت نہیں

ایران نے پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے تہران دورے کے دوران اپنا موقف سخت کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اپنے مطالبات پورے ہونے تک واشنگٹن سے کوئی بات چیت نہیں ہوگی — یہ بات ایرانی میڈیا کی رپورٹس میں بتائی گئی، جیسا کہ رائٹرز نے 20 اکتوبر کو رپورٹ کیا۔

عاصم منیر کی ایرانی قیادت سے ملاقاتیں

فیلڈ مارشل عاصم منیر منگل کو وزیر داخلہ محسن نقوی کے ہمراہ تہران پہنچے، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ملاقات میں ثالثی کی کوششوں اور خطے کی صورتحال پر بات کی۔ انہوں نے ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی، جبکہ ایرانی سیکیورٹی چیف محسن رضائی سے الگ ملاقات ہوئی۔

ایران کی سات شرائط کیا ہیں؟

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف کے مطابق واشنگٹن اس وقت تک تہران کا اعتماد دوبارہ حاصل نہیں کر سکے گا جب تک وہ ان سات شرائط کو پورا نہ کرے جو ایران نے گزشتہ ماہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے رکھی تھیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق ان مطالبات میں امریکی ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے تیل کی برآمدات پر عائد پابندیوں کا خاتمہ اور خطے کے تمام محاذوں پر دشمنیوں کا خاتمہ شامل ہے۔

ایرانی سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے بھی منیر کو یہی پیغام دیا کہ مطالبات پورے ہونے تک واشنگٹن سے کوئی بات نہیں ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام افزودہ جوہری مواد ایران کے اندر ہی رہے گا — سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبی خامنہ ای کا موقف بھی یہی ہے کہ قریبِ جوہری درجے کا یورینیم بیرون ملک نہ بھیجا جائے۔

امریکی مطالبات اور آٹھ ماہ کی جنگ

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے رواں ماہ کہا تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان آٹھ ماہ سے جاری جنگ ختم کرنے کے لیے ایران کو اپنی یورینیم افزودگی کی صلاحیت میں “معنی خیز” کمی کرنی ہوگی۔ امریکا اور اسرائیل کا دیرینہ الزام ہے کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کر رہا ہے — ایران اس کی تردید کرتا ہے۔

پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان اہم ثالث ہے۔ رائٹرز کے مطابق اس سے قبل کی ثالثی کی کوششوں سے جون میں ایک عبوری امن معاہدہ سامنے آیا تھا، لیکن اسلام آباد میمورنڈم چند ہفتوں بعد لڑائی دوبارہ شروع ہونے پر ختم ہو گیا تھا۔

اسلام آباد میں مذاکرات کی تیاریاں

بی بی سی ورلڈ سروس کے مطابق امریکی اور ایرانی حکام اسلام آباد کی طرف روانہ ہو رہے ہیں — لیکن براہِ راست ملاقات کا کوئی منصوبہ نہیں ہے؛ ایرانی خدشات پاکستانی ذرائع کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچائے جائیں گے۔

ذرائع: رائٹرز (20 اکتوبر 2026)، ایرانی میڈیا (نور نیوز)، بی بی سی ورلڈ سروس۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *