سربیا الیکشن: طلبہ بمقابلہ ووچچ، سخت مقابلہ
سربیا میں اتوار 25 اکتوبر کو قبل از وقت پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ جاری ہے، جس میں طلبہ کی قیادت والی تحریک طویل عرصے سے اقتدار میں موجود رہنما الیگزینڈر ووچچ کو چیلنج کر رہی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ ووچچ کے اقتدار کے لیے ایک دہائی سے زیادہ عرصے میں سب سے بڑا چیلنج ہے، اور مقابلہ انتہائی سخت بتایا جا رہا ہے۔
ووٹنگ: صبح سے لمبی قطاریں
بلغراد اور نووی ساد سمیت ملک بھر میں پولنگ اسٹیشنوں پر صبح 7 بجے ووٹنگ شروع ہونے سے پہلے ہی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ ووٹنگ رات 8 بجے تک جاری رہے گی، اور ابتدائی نتائج کے اشارے اس کے تقریباً دو گھنٹے بعد متوقع ہیں۔ سربیا کے 64 لاکھ سے زیادہ ووٹرز 250 رکنی قومی اسمبلی کے لیے 18 انتخابی فہرستوں اور 2,418 امیدواروں میں سے انتخاب کر رہے ہیں۔ ملک بھر میں 8,392 پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں، جن میں سے 93 بیرون ملک ہیں۔
طلبہ تحریک کے 250 امیدواروں میں سرفہرست امیدوار، نووی ساد کی معالج الیجا سردانووچ نے ووٹ ڈالنے کے بعد کہا کہ انہیں سربیا کی حالیہ تاریخ میں ریکارڈ ٹرن آؤٹ کی امید ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ یہ دن جمہوری ماحول اور امن کے ساتھ گزرے اور عوام جائز طریقے سے نئی حکومت کا انتخاب کریں۔
طلبہ تحریک کیسے بنی؟
طلبہ کی تحریک تقریباً دو سال پہلے شروع ہوئی، جب نومبر 2024 میں نووی ساد ریلوے اسٹیشن کی چھت گرنے سے 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس سانحے کے بعد بدعنوانی اور آمرانہ طرز حکمرانی کے خلاف طلبہ کی قیادت میں بڑے مظاہرے شروع ہوئے، جنہیں عوام کی وسیع حمایت حاصل ہوئی۔ اب یہ تحریک “اسٹوڈنٹس لسٹ” کے نام سے انتخابات میں حصہ لے رہی ہے، جس میں زیادہ تر غیر جانبدار شخصیات اور ماہرین تعلیم شامل ہیں۔
روئٹرز کے مطابق طلبہ کی کامیابی سربیا میں گہری سیاسی تبدیلی ہوگی، اور یورپ بھر میں طلبہ تحریکوں کے لیے ایک نمونہ بن سکتی ہے، جہاں حالیہ ہفتوں میں تعلیمی معیار اور روزگار کے مواقع کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔
ووچچ کا موقف اور سخت مقابلہ
الیگزینڈر ووچچ نے ستمبر کے آخر میں صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے کر وزیر اعظم کے عہدے کے لیے انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ 2014 سے 2017 تک وزیر اعظم رہ چکے ہیں، اور ان کی جماعت سربین پروگریسو پارٹی ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے اقتدار میں ہے۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ووچچ نے سربیا کو معاشی پسماندگی سے نکالا اور نئی شاہراہوں، ریلوے، اسکولوں اور اسپتالوں سمیت جدید کاری کا دور شروع کیا۔
تاہم رائے عامہ کے جائزوں میں دونوں فریقوں کے درمیان سخت مقابلہ ظاہر ہو رہا ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ ٹرن آؤٹ چھوٹی جماعتوں کو 3 فیصد کی حد سے نیچے دھکیل سکتا ہے، جو اسمبلی میں داخلے کے لیے ضروری ہے۔ پریشیوو وادی کے البانوی باشندے بھی “البانین کولیشن” کے نام سے متحدہ فہرست کے تحت انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
سربیا کے انتخابات پر یورپ بھر کی نظریں ہیں، کیونکہ اس کا نتیجہ بلقان خطے کی سیاست اور یورپی یونین سے سربیا کے تعلقات پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ نتائج آنے کے بعد ہی واضح ہوگا کہ آیا طلبہ تحریک ووچچ کے طویل اقتدار کا خاتمہ کر پاتی ہے یا نہیں۔
مزید پڑھیں: Albania protests escalate as 300 injured in Tirana — https://niazitvnews.com/?p=1764
مزید پڑھیں: فرانس مظاہرے: 4 لاکھ سے زیادہ افراد، 1000 گرفتار — https://niazitvnews.com/?p=1768
ذرائع: روئٹرز، ایسوسی ایٹڈ پریس، نیو انڈین ایکسپریس۔