سہیل آفریدی کیس لارجر بینچ کو بھیج دیا گیا

0

پشاور ہائیکورٹ نے منگل 3 نومبر 2026 کو خیبر پختونخوا کے غیر فعال وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سمیت پی ٹی آئی رہنماؤں کی حراست کے خلاف دائر درخواستوں کو چیف جسٹس کو بھیج دیا ہے تاکہ ان کی سماعت کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیا جا سکے۔ جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے یہ فیصلہ حکومت اور پولیس حکام کی جانب سے عدالتی حکم کے باوجود جواب داخل نہ کرنے پر کیا۔

عدالت میں منگل کو کیا ہوا؟

سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل بیرسٹر بشیر خان وزیر نے عدالت کو بتایا کہ سہیل آفریدی اور صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی کئی روز سے لاپتہ ہیں۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا کے گورنر اور ان کے مشیروں نے تصدیق کی تھی کہ وزیراعلیٰ، اسپیکر اور رکن قومی اسمبلی جنید اکبر حفاظتی تحویل میں ہیں۔ وکیل نے موقف اختیار کیا کہ صوبائی اسمبلی نے استثنیٰ کا قانون منظور کیا ہے جس کے تحت اسمبلی کے اراکین کو اس طرح گرفتار نہیں کیا جا سکتا، اور اسپیکر نئے اسپیکر کے انتخاب تک عہدے پر رہیں گے۔

جسٹس ارشد علی نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملہ کسی عام شخصیت کا نہیں بلکہ صوبے کے وزیراعلیٰ اور اسپیکر کا ہے، اس لیے اسے معمول کا کیس نہیں سمجھا جا سکتا۔ عدالت نے واضح کیا کہ یہ کیس مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کی دفعہ 3 کے تحت نہیں آتا۔ جج نے یہ بھی کہا کہ وزیراعلیٰ لاپتہ ہیں اور محکمہ داخلہ کے پاس ان کے بارے میں مکمل معلومات ہونی چاہئیں۔

حکومت کا جواب کیوں ناکافی قرار پایا؟

عدالت نے حکومت کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیا۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ 20 اکتوبر کے حکم کے تحت حکومت کو جواب داخل کرنے کے لیے 10 دن کا وقت دیا گیا تھا، لیکن اس کے باوجود حکم پر عمل نہیں ہوا۔ خیبر پختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل ثناء اللہ نے مزید وقت مانگا اور بتایا کہ دفعہ 3 کے تحت 200 سے زائد مقدمات درج کیے گئے ہیں، تاہم عدالت نے اس دلیل کو قبول نہیں کیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایڈووکیٹ جنرل نے بھی لارجر بینچ کی تشکیل کی درخواست کی حمایت کی۔ جسٹس ارشد علی نے خبردار کیا تھا کہ اگر حکومت نے یہی رویہ برقرار رکھا تو کیس لارجر بینچ کو بھیج دیا جائے گا، اور منگل کی سماعت میں یہی فیصلہ سنایا گیا۔ درخواست گزاروں نے ڈپٹی اسپیکر کی رہائش گاہ کی ڈی سیلنگ کے عدالتی حکم پر عمل نہ ہونے کا معاملہ بھی اٹھایا اور اسے توہین عدالت قرار دیا۔

پس منظر: آفریدی کہاں سے لاپتہ ہوئے؟

سہیل آفریدی 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کے بعد سے نظر نہیں آئے۔ ان کے بھائی محمد عامر نے 13 اکتوبر کو پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ مسلح اور نقاب پوش افراد نے انہیں 11 اکتوبر کی رات وزیراعلیٰ ہاؤس سے لے جایا تھا۔ درخواست میں آفریدی کی بازیابی، عدالت میں پیشی اور سی سی ٹی وی فوٹیج سمیت متعلقہ ریکارڈ محفوظ کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔

وفاقی حکومت کے ایک وزیر نے ایمرجنسی کے اگلے دن تصدیق کی تھی کہ آفریدی اور ان کی کابینہ کے کچھ اراکین حفاظتی تحویل میں ہیں۔ پی ٹی آئی کا دعویٰ ہے کہ اس کے کئی دیگر اراکین، بشمول اراکین اسمبلی اور وزراء، کو بھی حراست میں لیا گیا یا گرفتار کیا گیا۔ منگل کو زیر سماعت درخواستوں میں آفریدی کے علاوہ اسپیکر بابر سلیم سواتی، اراکین قومی اسمبلی جنید اکبر اور ڈاکٹر امجد علی، صوبائی وزیر امجد علی خان، اراکین صوبائی اسمبلی اکرام اللہ اور اورنگزیب خان اور سابق وزیراعلیٰ گلگت بلتستان محمد خالد خورشید سمیت کئی دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے معاملات بھی شامل تھے۔

پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے لارجر بینچ کو کیس بھیجنے کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ وزیراعلیٰ اور اسپیکر کا لاپتہ ہونا غیر معمولی بات ہے۔ اب چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ لارجر بینچ تشکیل دیں گے، جس کے بعد ان درخواستوں کی مزید سماعت ہوگی۔

پی ٹی آئی اور خیبر پختونخوا کی مزید خبریں پڑھیں: پی ٹی آئی کے چار رہنماؤں کو قبل از گرفتاری ضمانت (https://niazitvnews.com/?p=3424) اور پی ٹی آئی اتحاد کا بیان (https://niazitvnews.com/?p=3390)۔

ماخذ: ڈان، ایکسپریس ٹریبیون، اردو پوائنٹ اور ہم نیوز، 3 نومبر 2026۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *