عبدال السید: امریکہ کے پہلے مسلمان سینیٹر منتخب
امریکی ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹ امیدوار عبدال السید نے سینیٹ کی نشست جیت لی ہے اور وہ امریکہ کی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن گئے ہیں۔ میڈیا کے اندازوں کے مطابق انہوں نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی، جو سابق کانگریس رکن اور ٹرمپ کے قریبی حامی سمجھے جاتے تھے۔
تاریخی کامیابی کیسے ملی
عبدال السید کی عمر 42 سال ہے اور وہ پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر اور ماہر صحت عامہ ہیں۔ وہ مشی گن میں مصری تارکین وطن کے بیٹے کے طور پر پیدا ہوئے۔ ووٹوں کی گنتی کے ابتدائی اعداد کے مطابق انہوں نے تقریباً 52 فیصد ووٹ حاصل کیے جبکہ راجرز کو تقریباً 46 فیصد ووٹ ملے۔ یہ نشست ریٹائر ہونے والے ڈیموکریٹ سینیٹر گیری پیٹرز کی خالی کردہ نشست تھی، جسے برقرار رکھنا ڈیموکریٹس کے لیے سینیٹ میں اکثریت کی جنگ میں انتہائی اہم تھا۔
مہم کے بڑے موضوعات
السید کی مہم کا مرکز عام خاندانوں کے اخراجات میں کمی، سب کے لیے صحت کی سہولت اور سیاست سے بڑے کارپوریٹ پیسے کا خاتمہ تھا۔ انہوں نے اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور غزہ کی جنگ کو نسل کشی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ رقم صحت اور تعلیم جیسی ملکی ترجیحات پر خرچ ہونی چاہیے۔
سخت مخالفت اور تنازعات
یہ مہم امریکہ کی مہنگی ترین اور متنازع ترین سینیٹ مہمات میں سے ایک رہی۔ اگست میں پرائمری میں السید نے ڈیموکریٹ حریف ہیلی اسٹیونز کو شکست دی تھی، جن کی حمایت میں اسرائیل نواز لابی سے وابستہ گروپوں نے تین کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے تھے۔ بعد میں اسٹیونز نے اپنی ہی پارٹی سے ہٹ کر اتوار کو راجرز کی حمایت کا اعلان کر دیا، جو امریکی سیاست میں غیر معمولی قدم سمجھا گیا۔
السید کے مخالفین نے ان پر مسلم برادران جیسی تنظیموں سے تعلق کا الزام لگایا، جسے السید نے مسترد کیا اور ان الزامات کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ان کے خلاف سخت زبان استعمال کی اور ان کا نام بگاڑ کر پکارا۔ مشی گن میں تقریباً تین لاکھ عرب امریکی رہتے ہیں اور یہ ریاست میں ایک اہم ووٹر گروپ ہے۔
ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے معنی
السید کی جیت کو ڈیموکریٹک پارٹی کے ترقی پسند دھڑے کی بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔ سابق صدر باراک اوباما اور سابق نائب صدر کاملا ہیرس نے مہم کے آخری ہفتوں میں مشی گن میں ان کے ساتھ انتخابی مہم چلائی تھی۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ نتیجہ امریکہ میں اسرائیل پالیسی اور مسلم نمائندگی کے بارے میں بحث کو نئی سمت دے سکتا ہے۔
امریکی مڈٹرم انتخابات میں ڈیموکریٹس نے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ ایوان نمائندگان کی جیت پہلے ہی سامنے آ چکی تھی۔ السید کی جیت اسی لہر کا حصہ ہے، جس میں ٹیکساس اور اوہائیو جیسی ریاستوں میں بھی ڈیموکریٹس نے تاریخی کامیابیاں حاصل کیں۔
مزید پڑھیں:
https://niazitvnews.com/?p=3597
https://niazitvnews.com/?p=3584
ذرائع: دی نیشنل، یو ایس اے ٹوڈے، اکنامک ٹائمز — 4 نومبر 2026