قومی اسمبلی نے کے پی ایمرجنسی کی توثیق کر دی — قرارداد اکثریتی ووٹ سے منظور، بلاول کا “سیاسی خودکش حملہ” کا الزام
قومی اسمبلی نے آج بدھ کو خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ کی حکومت کی قرارداد اکثریتی ووٹ سے منظور کر لی۔ صدر آصف علی زرداری کی جانب سے 11 اکتوبر کو جاری کردہ ایمرجنسی کے اعلان کی توثیق کا معاملہ وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے ایوان میں پیش کیا، جسے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی ابتدائی بحث کے بعد منظوری مل گئی۔ اجلاس کی صدارت اسپیکر سردار ایاز صادق نے کی۔
وقفہ سوالات معطل، ایمرجنسی پر ہی بحث
ایمرجنسی پر بحث کے باعث قومی اسمبلی کے وقفہ سوالات کا سیشن معطل کر دیا گیا۔ منظور کردہ قرارداد میں کہا گیا کہ “قومی اسمبلی آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 232 کی شق (1) کے دوسرے پرویزو کے تحت صوبہ خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر 2026 کو صدر کی جانب سے جاری کردہ ایمرجنسی کے اعلان کی منظوری دیتی ہے۔” آرٹیکل 232 کے تحت صدر کی جانب سے جاری کردہ ایمرجنسی کا اعلان دونوں ایوانوں کی منظوری کے لیے 10 دن کے اندر پیش کرنا ضروری ہے۔
بلاول بھٹو کا “سیاسی خودکش حملہ” کا الزام
اجلاس کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ایمرجنسی نافذ ہونے کے حالات کی ذمہ دار پی ٹی آئی کی کے پی حکومت ہے، اسے انہوں نے “سیاسی خودکش حملہ” قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مرکز نے حتی الامکان کوشش کی کہ اپوزیشن سے رابطہ کر کے یہ قدم اٹھانے کی نوبت نہ آئے۔ بلاول نے تاہم مطالبہ کیا کہ اس “آئینی ایٹم بم” کے استعمال سے پہلے وفاق کو پی ٹی آئی اور اپوزیشن سے بات چیت کر کے اپنے تحفظات دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے تھی۔
تارڑ کا دفاع: دہشت گردی کے بڑھتے واقعات
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ایوان کے سامنے ایمرجنسی کا اعلان رکھنا اور اس کی منظوری لینا آئینی تقاضا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات، اندرونی بے امنی اور سرحد پار سے دراندازی کے پیشِ نظر یہ فیصلہ ناگزیر تھا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2021 سے 2024 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے 2,911 واقعات ہوئے، جبکہ 15 اکتوبر 2025 سے 9 اکتوبر 2026 کے درمیان یہ تعداد بڑھ کر 3,787 ہو گئی۔ وفاقی کابینہ نے ڈھائی گھنٹے کی میٹنگ میں صورتحال کا جائزہ لے کر وزیر اعظم کو سفارش کی تھی، جس کے بعد آرٹیکل 232 کے تحت اعلان جاری ہوا۔
وزیر اعظم بھی اجلاس میں شریک
وزیر اعظم شہباز شریف بھی اجلاس کے کچھ حصے میں شریک رہے، اور قومی اسمبلی کی جاری کردہ تصاویر میں انہیں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی سے ہاتھ ملاتے دیکھا گیا۔ وفاقی وزراء نے ایمرجنسی کے نفاذ کا دفاع کرتے ہوئے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت پر دہشت گردی سے نمٹنے کی ارادی خامی کا الزام لگایا۔ اپوزیشن اراکین نے ماضی کے برعکس کوئی شور شرابہ نہیں کیا اور پرامن طور پر شریک رہے۔ اجلاس بعد ازاں جمعہ صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔
سینیٹ میں بھی قرارداد پیش — اگلا مرحلہ
اسی روز سینیٹ میں بھی ایمرجنسی کے اعلان کی توثیق کی قرارداد پیش کی گئی، جسے وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے پیش کیا۔ اجلاس کے دوران جمعیت علمائے اسلام اور پی ٹی آئی کے اراکین نے قرارداد کی مخالفت کی اور ہنگامہ آرائی بھی ہوئی، جس پر چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے اپوزیشن اراکین کو پرسکون رہنے کی ہدایت کی۔ ایمرجنسی کا اعلان اب سینیٹ کی منظوری کا منتظر ہے، جبکہ آرٹیکل 234 کے تحت گورنر راج کا اعلان مشترکہ اجلاس کے سامنے رکھا جائے گا۔
ذرائع: ڈان، بزنس ریکارڈر (آج نیوز)، جی این این، 24 نیوز ایچ ڈی