لاہور سموگ: دنیا کا آلودہ ترین شہر، اے کیو آئی 296
لاہور بدھ 28 اکتوبر کی صبح ایک بار پھر دنیا کے آلودہ ترین بڑے شہروں کی فہرست میں سرفہرست آ گیا۔ سوئس فضائی معیار کی نگرانی کے پلیٹ فارم آئی کیو ایئر کے مطابق صبح 10 بجے لاہور کا ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 296 ریکارڈ کیا گیا، جو امریکی اے کیو آئی اسکیل کے تحت “انتہائی غیر صحت مند” کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی فہرست میں قاہرہ 289 کے ساتھ دوسرے، دہلی 272 کے ساتھ تیسرے اور کراچی 173 کے ساتھ پانچویں نمبر پر رہا۔
صبح کے مختلف اوقات میں مختلف ریڈنگز
یہ واضح رہے کہ عالمی درجہ بندی براہ راست نگرانی کے اعداد پر مبنی ہوتی ہے، اس لیے دن بھر ریڈنگز اور شہروں کی پوزیشن تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ پاکستان آبزرور کی رپورٹ کے مطابق صبح 8 بجے لاہور کا اے کیو آئی 358 تک پہنچ گیا تھا، جب کہ شہر کے بعض مانیٹرنگ اسٹیشنوں پر آلودگی کہیں زیادہ ریکارڈ ہوئی — علامہ اقبال ٹاؤن بی میں 635، سی ای آر پی دفتر میں 599 اور برکی روڈ پیراگون میں 457۔ ان اسٹیشنوں کی ریڈنگز “خطرناک” کے زمرے میں آتی ہیں۔ ہوا میں باریک ذرات پی ایم 2.5 کی مقدار 254 مائیکروگرام فی مکعب میٹر بتائی گئی۔
صحت کے لیے خطرات اور احتیاطی تدابیر
اے کیو آئی 296 کی سطح بچوں، بزرگوں اور دمہ یا دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے سنگین خطرہ سمجھی جاتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ آلودہ ہوا سے آنکھوں اور گلے میں جلن، سانس لینے میں دشواری اور پھیپھڑوں کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ آلودگی زیادہ ہونے پر طویل بیرونی سرگرمیوں سے گریز کریں، باہر نکلتے وقت مناسب ماسک استعمال کریں اور سانس میں مسلسل دشواری یا سینے میں جکڑن کی صورت میں طبی مشورہ لیں۔
اسکولوں کی بندش کا سوال
سموگ میں شدت کے بعد لاہور میں والدین کی جانب سے اسکول جانے والے بچوں کی صحت و سلامتی پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے اور یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا تعلیمی ادارے بند کیے جائیں گے۔ تاہم اب تک اس حوالے سے کسی سرکاری فیصلے یا اسکول بندش کے اعلان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بچوں کو آلودہ ماحول میں جسمانی مشقت اور ورزش سے بھی گریز کرنا چاہیے۔
سموگ کی وجوہات اور حکومت کے اقدامات
ڈان کی رپورٹ کے مطابق سموگ کی بنیادی وجوہات میں صنعتی اخراج، گاڑیوں کا دھواں، فصلوں کی باقیات جلانا اور ہوا کی نقل و حرکت شامل ہیں۔ محکمہ تحفظ ماحولیات (ای پی اے) پنجاب کے ترجمان ساجد بشیر نے بتایا کہ حکام صنعتوں کی نگرانی کر رہے ہیں اور آلودگی کی سطح ریکارڈ کرنے کے لیے آلات نصب کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق مشرق سے آنے والی ہوائیں بھارتی سرحد کے قریب علاقوں سے آلودہ ہوا لاہور اور وسطی پنجاب میں لا رہی ہیں۔ حکومت الیکٹرک ٹرکوں پر نصب 30 جدید فوگ کینن خرید رہی ہے اور زیادہ آلودگی والے علاقوں میں سڑکوں کی دھول دبانے کے لیے اینٹی سموگ آلات تعینات کیے جا رہے ہیں۔
یہ صورتحال اس لیے بھی اہم ہے کہ لاہور میں سموگ کا مسئلہ ہر سردیوں میں شدت اختیار کرتا ہے۔ گزشتہ روز بھی لاہور دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل رہا تھا، اور آج کی تازہ ریڈنگ سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر کی فضا میں بہتری کے بجائے مزید بگاڑ آیا ہے۔ اسلام آباد میں جاری قومی کلین ایئر کانفرنس میں بھی فضائی آلودگی سے نمٹنے کے لیے وفاقی و صوبائی سطح پر پالیسی اقدامات زیر بحث ہیں۔
مزید پڑھیں: لاہور دنیا کا دوسرا آلودہ شہر، AQI 199 ریکارڈ — https://niazitvnews.com/?p=2214 اور لاہور پھر دنیا کا تیسرا آلودہ شہر، AQI 174 ریکارڈ — https://niazitvnews.com/?p=2183
ماخذ: ڈان، آئی کیو ایئر، پاکستان آبزرور — 28 اکتوبر 2026