مذاکرات بحال ہو سکتے ہیں — عامر ڈوگر کا اہم اعلان
مذاکرات بحال ہو سکتے ہیں — عامر ڈوگر کا اہم اعلان
پاکستان تحریک انصاف کے چیف وہپ ملک عامر ڈوگر نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات آئندہ چند روز میں بحال ہو سکتے ہیں۔ ڈوگر کے مطابق پارٹی میں کسی قسم کی تقسیم کی خبروں میں صداقت نہیں اور عمران خان کی ہدایت کے بغیر کوئی بڑا فیصلہ نہیں ہوگا۔
ڈوگر کا بیان — کیا کہا گیا؟
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ڈوگر نے پارلیمانی پارٹی کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی قیادت محمود خان اچکزئی اور سینیٹ میں علامہ راجہ ناصر عباس کو سونپی تھی، اس لیے ان کی رضامندی کے بغیر کسی تبدیلی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی پارٹی کے آئینی اور قانونی وزیراعلیٰ ہیں اور انہیں بانی پی ٹی آئی کا اعتماد حاصل ہے۔ ڈوگر نے مزید کہا کہ پارٹی مذاکرات کے لیے پُرعزم ہے باوجود اس کے کہ — ان کے بقول — پارٹی پر “بے مثال جبر” ڈھایا جا رہا ہے اور قومی اسمبلی کے 10 سے زائد اراکین جیل میں ہیں۔ (یہ سب ڈوگر کے دعوے ہیں، آزاد ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں۔)
گہر کی مداخلت — اندرونی تنازع پر خاموشی کا حکم
اسی دوران پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ اور سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کے درمیان لفظی جنگ پر مداخلت کی ہے۔ راجہ نے حال ہی میں پارٹی صفوں میں شکوک پھیلانے والوں کو “سانپ اور سانپ کے بچے” کہا تھا، جس پر گنڈاپور نے معافی کا مطالبہ کیا تھا۔
ٹریبیون سے ٹیلیفون پر گفتگو میں گوہر نے کہا کہ انہوں نے گنڈاپور، شیخ وقاص اکرم، علی اصغر خان اور راجہ سے بات کی ہے اور انہیں ایک دوسرے کے خلاف بیانات سے گریز کرنے کی درخواست کی ہے۔ گوہر کا اصرار ہے کہ صوبائی اراکین نے پارٹی پالیسی کی کوئی خلاف ورزی نہیں کی اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
پارلیمانی پارٹی کے مطالبات
خیبرپختونخوا اسمبلی میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی نے جمعرات کو اپنے اجلاس کے بعد اعلامیہ میں وفاقی حکومت سے مذاکرات کی حمایت کی اور مطالبہ کیا کہ بات چیت میں صوبائی نمائندوں کو شامل کیا جائے، جن کے لیے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور کا نام تجویز کیا گیا۔ گنڈاپور کی مذاکرات کے لیے نامزدگی کی خبر ہم نے پہلے بھی شائع کی تھی۔
ذرائع کے مطابق پارلیمانی پارٹی نے حراست میں لیے گئے اسپیکر بابر سلیم سواتی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور دیگر کابینہ اراکین کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا اور اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ پارٹی کی مستقبل کی حکمت عملی پر ان سے مشاورت نہیں کی گئی۔
متنازع آڈیو — تصدیق نہیں ہو سکی
علی امین گنڈاپور سے منسوب ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ گردش کر رہی ہے جس میں وہ مبینہ طور پر سلمان اکرم راجہ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں، تاہم اس آڈیو کی صداقت کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ اس لیے اسے محض ایک دعویٰ سمجھنا چاہیے۔
پس منظر — ایمرجنسی اور گورنر راج
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا، جس پر پی ٹی آئی نے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج دائر کر رکھا ہے۔ پارلیمنٹ نے گزشتہ ہفتے صدارتی اعلامیوں کی توثیق کی تھی، جس کے تحت صوبہ دو ماہ کے لیے وفاقی کنٹرول میں ہے۔ پی ٹی آئی اسے سیاسی قبضے کی کوشش قرار دیتی ہے، جبکہ وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے دستبردار ہو گئی تھی۔
اسی تناظر میں وزیراعظم نے خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا بھی اعلان کیا تھا۔ آنے والے دن یہ طے کریں گے کہ مذاکرات کا یہ راستہ صوبائی حکومت کی بحالی تک پہنچتا ہے یا پارٹی مزید اندرونی کھچاؤ کا شکار رہتی ہے۔
(ذرائع: ایکسپریس ٹریبیون، زارک نیوز کا خلاصہ، پارٹیکل نیوز)