مکہ دفاعی معاہدے کی توثیق — پاکستان اور سعودی عرب نے عمل مکمل کر لیا

0

پاکستان اور سعودی عرب نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کی توثیق کا عمل مکمل کر لیا ہے، جبکہ تیسرا شراکت دار ملک ترکیہ ابھی اپنے قانونی عمل سے گزر رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان سجاد حیدر خان نے ہفتہ وار بریفنگ میں اس اہم پیش رفت کی باضابطہ تصدیق کی ہے۔

دفتر خارجہ نے کیا بتایا؟

ترجمان سجاد حیدر خان نے کہا: “پاکستان اور مملکت سعودی عرب نے اپنی توثیق کے عمل مکمل کر لیے ہیں، جبکہ ترکیہ اپنے داخلی قانونی فریم ورک کے مطابق ضروری طریقہ کار اختیار کر رہا ہے۔”

سوال پر کہ معاہدے کی عبارت پاکستان میں عام کیوں نہیں کی گئی، ترجمان نے کہا کہ ہر ملک بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری اور توثیق کے لیے اپنے آئینی اور قانونی طریقہ کار پر عمل کرتا ہے۔ پاکستان میں خارجہ تعلقات اور معاہدوں کی توثیق آئین کے آرٹیکل 90 اور 99 کے تحت ایگزیکٹو کا اختیار ہے، اور پارلیمانی منظوری اس وقت تک ضروری نہیں جب تک کسی معاہدے کے نفاذ کے لیے داخلی قانون میں تبدیلی درکار نہ ہو۔

کوئی خفیہ دفعات نہیں — عبارت کی تصدیق

معاہدے کی عبارت اس وقت پاکستانی عوام کے سامنے آئی جب ترکیہ نے اسے 20 اکتوبر کو اپنی پارلیمنٹ میں توثیق کے لیے پیش کیا۔ ترجمان نے میڈیا میں شائع متن کی صداقت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا: “اس میں کوئی خفیہ دفعات نہیں ہیں؛ معاہدہ اپنی دفعات اور آرٹیکلز میں واضح اور شفاف ہے۔” معاہدے میں 16 آرٹیکلز ہیں، جن میں آرٹیکل 2 کے تحت کسی ایک رکن پر بیرونی مسلح حملے کو تمام تینوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔

پس منظر: 7 اگست کا معاہدہ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست کو مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جو بیرونی مسلح جارحیت کی صورت میں اجتماعی مدد کا فریم ورک فراہم کرتا ہے — تاہم مدد کی نوعیت اور دائرہ کار ہر صورت میں تینوں ملکوں کی اجتماعی مشاورت سے طے ہوگا۔ 5 اکتوبر کو ریاض میں الائنس کی اسٹریٹجک، سیاسی اور دفاعی کمیٹی کے اجلاس کے بعد معاہدے کا عملی نفاذ شروع ہوا، جس میں سعودی عرب میں پہلے سے طے شدہ فوجی دستوں اور صلاحیتوں کی تیزی سے تعیناتی پر زور دیا گیا تھا۔

حوثی حملوں پر پاکستان کا موقف

ترجمان سے سوال ہوا کہ کیا یہ معاہدہ سعودی عرب پر حوثی حملوں کا احاطہ کرتا ہے؟ انہوں نے کہا کہ معاہدہ دفاعی نوعیت کا ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے مطابق ہے، اور کسی مخصوص ملک کے خلاف نہیں ہے۔ کسی بھی مدد کی نوعیت تینوں ملکوں کی طرف سے حالات کے مقصد جائزے کے بعد اجتماعی طور پر طے کی جائے گی۔ ساتھ ہی پاکستان نے یمن میں مذاکرات کے ذریعے سیاسی حل کی حمایت کا موقف دہرایا، اور سعودی عرب پر حملوں کی واضح مذمت کی۔

ایران تجارت پر سوالات

ترجمان نے ایران کے ساتھ تجارت کی بندش کے بارے میں سوالات کو ٹال دیا اور تصدیق نہیں کی کہ سرحدی گزرگاہوں پر معمول کے آپریشن بحال ہوئے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ زائرین کی آمدورفت جاری ہے۔ قابل ذکر ہے کہ 16 اکتوبر سے طفتان اور گبد-ریمدان گزرگاہوں پر تجارتی مال کی آمدورفت متاثر ہے، جس سے ایل پی جی کی قلت پیدا ہوئی۔ اسی تناظر میں علاقائی سلامتی کے لیے آر4 اعلامیہ بھی جاری ہوا تھا، جس میں سعودی عرب کے تحفظ کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

ذرائع: ڈان، بزنس ریکارڈر، ایکسپریس ٹریبیون، آج ٹی وی، دنیا نیوز، پاکستان ٹوڈے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *